خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 79
$2004 79 خطبات مسرور آپ اس عہدہ پر فائز رہے۔آخر تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے ذہنی لحاظ سے بالکل ٹھیک تھے اور اپنے کام بخوبی انجام دیتے رہے۔چھ بیٹے آپ نے یاد گار چھوڑے ہیں۔میں ان کے بارہ میں مختصراً یہ بھی بتادوں کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے قادیان میں آپس میں اخوت کا رشتہ قائم کرنے کے لئے ایک پروگرام شروع کیا تھا کہ دولڑکوں کو آپس میں بھائی بھائی بنا دیتے تھے۔کس طرح بنتے تھے اس کی ایک لمبی تفصیل ہے۔تو حضرت شیخ صاحب میرے والد صاحبزادہ مرز امنصور احمد صاحب کے بھائی بنے اور ان کے ساتھ یہ رشتہ قائم ہوا۔پھر ان کے انکسار اور اخلاص کا ذکر کر آیا ہوں یہ صفت واقعی ان میں بہت زیادہ تھی۔یہ نہیں کہ ذکر کرنے کے لئے کیا ہے بلکہ میں یہ بھی بتادوں کہ جب مجھے حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے جب ناظر اعلیٰ اور امیر مقامی مقر فر مایا تھا تو آپ اس وقت ناظر بیت المال تھے۔باوجود ایک بہت سینئر ناظر ہونے کے، عمر میں بھی مجھ سے بہت بڑے تھے، میرے والد صاحب کے برابر تھے تو شیخ صاحب نے اطاعت کا وہ نمونہ دکھایا جو واقعی ایک مثال ہے اور بعض دفعہ تو ان کی اس اطاعت اور اخلاص کو دیکھ کر شرم بھی آتی تھی۔پھر جب حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے انہیں صدر صدرانجمن احمد یہ مقر فرمایا تو با وجود اس کے کہ ان کے پاس ایک بڑا عہدہ تھا لیکن شفقت کے ساتھ ساتھ اطاعت کا پہلو بھی رہا۔وہ اس لئے کہ میں امیر مقامی بھی تھا اور امیر کی اطاعت ضروری ہے۔تو یہ قابل مثال ہیں بہت سوں کے لئے۔اللہ تعالیٰ ان سے بے انتہا مغفرت کا سلوک فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کو اپنے پیاروں کے قدموں میں جگہ دے۔آپ موصی تھے اور مقبرہ بہشتی میں دفن ہوئے۔اللہ تعالیٰ ان کے بچوں کو بھی انہی کی طرح کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔پھر ہمارے ایک بزرگ حضرت مولا نا محمد سعید انصاری صاحب تھے جن کی 9 جنوری کو وفات ہوئی۔یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ جمعہ کے دن ہی ان کی پیدائش ہوئی اور جمعہ کے دن ہی ان کی وفات ہوئی ہے۔آپ نے ۱۹۴۶ء میں اپنی زندگی وقف کی تھی۔حضرت علیہ اسیح الثانی نے آپ کی