خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 833 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 833

833 $2004 خطبات مسرور کر کے یا نہ بھی کمزوری ہو تو باتیں پھیلا کر بچیوں کے رشتے تڑوانے سے بھی دریغ نہیں کرتے ، اس سے بھی باز نہیں آتے۔دوسرے فریق کو جا کر بعض دفعہ جہاں رشتے کی بات چل رہی ہو اس طرح غلط بات کہہ دیتے ہیں کہ اگلا پھر فکر میں پڑ جاتا ہے کہ میں رشتہ کروں بھی کہ نہ۔مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ کسی طرح لڑکی والوں کو تکلیف میں ڈالا جائے۔بعض لوگ صرف عادتاً زبان کا مزہ لینے کے لئے ہنسی ٹھیٹھے کے رنگ میں کسی کی کمزوری کو لے کر اچھالتے ہیں۔اور آج کل کے معاشرے میں یہ تکلیف دہ صورتحال کچھ زیادہ ابھرتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔شاید اس لئے کہ آپس کے رابطے آسان ہو گئے ہیں۔تو بہر حال کوئی خاص فائدہ اٹھانے کے لئے یا کسی کو بدنام کرنے کے لئے یا زبان کا مزہ لینے کے لئے دوسروں کی کمزوریوں اور غلطیوں کو اچھالا جاتا ہے بلکہ بعض دفعہ ایسا موقع پیدا کیا جاتا ہے کہ کوئی غلطی کسی سے کروائی جائے اور پھر اس کو پکڑ کر فائدہ اٹھایا جائے۔تو ان حالات میں جیسا کہ میں نے کہا صرف اسلام اپنے ماننے والوں سے یہ کہتا ہے کہ ان بیہودگیوں اور ان لغویات سے بچو، اور اس زمانے میں، آج کل حقیقی اسلام کا نمونہ دکھانے والا اگر کوئی ہے یا ہونا چاہئے تو وہ احمدی ہے۔اس لئے ہر احمدی کا یہ فرض بنتا ہے کہ کسی کے عیب اور غلطیاں تلاش کرنا تو دور کی بات ہے اگر کوئی کسی کی غلطی غیر ارادی طور پر بھی علم میں آجائے تو اس کی ستاری کرنا بھی ضروری ہے۔کیونکہ ہر ایک کی ایک عزت نفس ہوتی ہے۔اس چیز کا خیال رکھنا ضروری ہے۔دوسرے اگر کوئی برائی ہے، حقیقت میں کوئی ہے تو اس کے اظہار سے ایک تو اس کے لئے بدنامی کا باعث بن رہے ہوں گے دوسرے دوسروں کو بھی اس برائی کا احساس مٹ جاتا ہے، جب آہستہ آہستہ برائیوں کا ذکر ہونا شروع ہو جائے۔اور آہستہ آہستہ معاشرے کے اور لوگ بھی اس برائی میں ملوث ہو جاتے ہیں۔اس لئے ہمیں واضح حکم ہے کہ جو باتیں معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے والی ہوں یا بگاڑ پیدا کرنے کا باعث ہو سکتی ہوں، ان کی تشہیر نہیں کرنی، ان کو پھیلانا نہیں ہے۔دعا کرو اور ان برائیوں سے ایک طرف ہو جاؤ۔اور اگر کسی سے ہمدردی ہے تو دعا اور ذاتی طور پر سمجھا کر اس برائی کو دور کرنے کی کوشش