خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 828
828 $2004 خطبات مسرور چاہے وہ آہستہ آواز میں چپ کروا ر ہے ہوں تو ساتھ بیٹھے ہوئے کو پھر بھی تکلیف ہوتی ہے، خاص طور پر عورتوں کی طرف سے کافی شکایتیں آتی ہیں۔اس لئے احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ چھوٹے بچے اور ان کی مائیں گھر پر ہی رہیں۔ہاں عید پر آنے کا حکم ہے اس پر ضرور آیا کریں۔کیونکہ پرسوں عید بھی ہے یہ نہ ہو کہ سمجھیں کہ عید بھی معاف ہو گئی۔اور بچوں کے لئے علیحدہ جگہ جہاں بنی ہو وہاں بیٹھنا چاہئے ، عام جو نماز کا ہال ہے وہاں نہ بیٹھیں۔یہاں بیت الفتوح میں تو اللہ کے فضل سے ویسے بھی ایک علیحدہ جگہ بنی ہوئی ہے بچوں کے لئے۔لیکن شاید رش کی وجہ سے وہ علاقہ بھی مردوں کو مل جائے مجھے نہیں پتہ کیا پروگرام ہے ان کا۔لیکن بہر حال بچوں والی عورتیں ایک طرف ہو کر بیٹھیں ، دوسرے ڈسٹرب نہ ہوں۔آنحضرت ﷺ نے تو جائز وجہ سے بھی خطبے کے دوران بولنے کو نا پسند فرمایا ہے۔چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جمعے کے روز جب امام خطبہ دے رہا ہوا اگر تم اپنے قریبی ساتھی کو اگر وہ بول رہا ہے تو اس کو کہو خاموش ہو جاؤ تو تمہارا یہ کہنا بھی لغوفعل ہے۔(ترمذى كتاب الجمعة باب ما جاء في كراهية الكلام والامام يخطب) تو یہ دیکھیں یوں خاموش کروانا، بول کے خاموش کروانے کی بھی پابندی ہے اس کو بھی لغو قرار دیا گیا ہے۔کسی کو بھی چپ کروانا ہو چاہے چھوٹے بچوں کو یا بڑوں کو تو ہاتھ کے اشارے سے چپ کروانا چاہئے۔تو یہ جمعہ سے متعلق چند باتیں ہیں جو میں نے آپ کے سامنے پیش کی ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو جمعہ کی اہمیت کو سمجھنے کی بھی توفیق عطا فرمائے اور اپنی ذمہ داریوں کو اس سلسلے میں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور یہ رمضان جس کا کل یہاں آخری روزہ ہے باقی دنیا میں بھی کل یا پرسوں ختم ہو جائے گا اس رمضان میں جو برکات ہم نے حاصل کی ہیں اور اپنے اندر جو تبدیلیاں پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اللہ تعالیٰ اس کوشش کو یا ان کوششوں کو دائمی بنادے، ہماری زندگیوں کا حصہ بنادے۔اور جیسا کہ حدیث میں بیان ہوا ہے سارا سال ہمیں گناہوں سے بچنے اور عبادتوں کے معیار قائم کرنے کی توفیق ملتی رہے تا کہ آئندہ رمضان بھی جو آئے اور اس کے علاوہ جتنے رمضان بھی ہماری زندگیوں میں آنے مقدر ہیں ہمارے لئے کفارہ بن جائیں۔جو آج جمعتہ الوداع میں شامل ہوئے ہیں، جمعہ میں شامل ہوئے ہیں جمعتہ الوداع سمجھ کر وہ اس عہد کے ساتھ اٹھیں اور وہ لوگ بھی جو کبھی