خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 827 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 827

$2004 827 خطبات مسرور ہیں کہ : ”ہاں اگر کسی شخص نے عمد انماز اس لئے ترک کی ہے کہ قضاء عمری کے دن پڑھ لوں گا تو اس نے ناجائز کیا ہے۔اگر ندامت کے طور پر تدارک مافات کرتا ہے، یعنی اگر شرمندگی بھی ہے یہ کہتا ہے کہ تو بہ تائب کرنا چاہتا ہے تو پڑھنے دو اس کو کیوں منع کرتے ہو۔آخر دعا ہی کرتا ہے“۔فرمایا کہ اس میں پست ہمتی ضرور ہے اور ہمارے لئے فرمایا بعض لوگ اعتراض بھی کر دیتے ہیں کہ دیکھو منع کرنے سے کہیں تم بھی اس آیت کے نیچے نہ آجاؤ“۔(الحکم مورخه 24 اپریل 1903ء صفحه 12 کالم نمبر (3) تو یتھی جمعہ کی اہمیت لیکن ان ساری باتوں کے باوجود بعض لوگ خطبہ سنیں گے کچھ اپنے پر سختی طاری کر لیں گے، کچھ دوسروں کے لئے سخت ہو جائیں گے۔کچھ لوگوں کے لئے جمعہ پہ چھوٹ بھی ہے اس کا بھی میں ذکر کر دیتا ہوں۔طارق بن شہاب روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ہر مسلمان پر جماعت کے ساتھ جمعہ ادا کرنا ایسا حق ہے جو واجب ہے۔یعنی فرض ہے۔سوائے چار قسم کے افراد کے یعنی غلام، عورت، بچہ اور مریض۔(ابو داؤد۔کتاب الصلواة ـ باب الجمعة للمملوك والمرأة) تو ان چار کو چھوٹ دی گئی ہے۔خاص طور پر بچوں والی عورتیں جن کے بالکل چھوٹے بچے ہیں جن کے رونے یا شور کرنے سے دوسرے ڈسٹرب ہو رہے ہوں ان کی نما ز خراب ہو رہی ہو خطبہ سننے میں دقت پیدا ہورہی ہو ان کے لئے تو بہتر یہی ہے کہ وہ گھر میں ہی رہیں ، گھر میں ہی نماز ادا کر لیا کریں۔یہ جو چھوٹ دی گئی ہے یہ اپنی تکلیف یا مجبوری کے علاوہ دوسروں کو تکلیف سے بچانے کے لئے بھی ہے۔اور پہلے یہاں ذکر ہے غلام کا غلام تو اس زمانے میں رہے نہیں لیکن بعض دفعہ شیطان نفس میں ڈال دیتا ہے ملازم پیشہ سمجھتے ہیں کہ شاید ہم اس کی کیٹگری میں آگئے۔وہ اس میں نہیں ہیں، میں واضح کر دوں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ چھوٹے بچوں والی عورتوں کو تو جمعہ پڑھانے کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے۔خدا کے نبی ﷺ نے یہ چھوٹ دی ہے تو اس سے فائدہ اٹھائیں اور جمعہ کے آداب کے لحاظ سے بھی ضروری ہے۔جمعہ کا خطبہ جو ہے وہ بھی جمعہ کا حصہ ہے۔اس لئے اس میں بھی خاموش بیٹھنا ضروری ہے۔بچوں کے بولنے کی وجہ سے ماں باپ ان کو چپ کرواتے ہیں