خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 826 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 826

$2004 826 خطبات مسرور بھی اس طرف خاص توجہ دینی چاہئے کیونکہ یہ سورہ جمعہ ہی ہے جس میں آخرین کا، مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے کا پہلوں سے یعنی صحابہ سے ملنے کا ذکر ہے۔تو یہ ملنا تو سبھی ملنا ہو گا جب ہم ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش بھی کر رہے ہوں گے۔پس جیسا کہ میں نے کہا ہے احمدیوں کو جمعہ کی حاضری اور اس کی حفاظت کی طرف خاص توجہ دینی چاہئے۔کیونکہ ایک تو اپنی ذات میں جمعہ کی ایک خاص اہمیت ہے۔جو باتیں میں نے ابھی بتائی ہیں قرآن وحدیث سے بڑا واضح ہے۔دوسرے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے کے بعد جو ایک ہاتھ پر جمع ہو کر اپنے اوپر ہم نے ایک اور زیادہ ذمہ واری ڈال لی ہے کہ اکٹھے ہو کر دعائیں کرتے ہوئے ہم نے تمام دنیا کو ایک ہاتھ پہ جمع بھی کرنا ہے۔تمام دنیا کو آنحضرت ﷺ کے غلام کی جماعت میں شامل بھی کرنا ہے۔اس ذمہ داری کو نبھانا ہے اس کے لئے کوششیں بھی بہت زیادہ کرنی ہوں گی۔اللہ تعالیٰ اس کی توفیق عطا فرمائے۔یہ احمدیوں میں تو نہیں ہوتا لیکن بعض غیروں میں ہوتا ہے بعض لوگوں کا خیال ہے، نظریہ ہے کہ جمعۃ الوداع کے دن قضاء عمری پڑھ لو تو پچھلی تمام زندگی کی چھوڑی ہوئی نمازیں ادا ہو جاتی ہیں اور ان دورکعتوں میں سب کچھ پورا ہو گیا۔اللہ کا شکر ہے کہ احمدی اس بدعت سے پاک ہیں۔اس بارے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کسی نے پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ: ” جو شخص عمد ا سال بھر اس لئے نماز کو ترک کرتا ہے کہ قضاء عمری والے دن ادا کر لوں گا وہ گنہگار ہے۔اور جو شخص نادم ہو کر تو بہ کرتا ہے اور اس نیت سے پڑھتا ہے کہ آئندہ نماز ترک نہ کروں گا تو اس کے لئے حرج نہیں۔ہم تو اس معاملے میں حضرت علی ہی کا جواب دیتے ہیں“۔حضرت علی کا جواب ایک اور روایت میں آپ نے اس طرح فرمایا ہے کہ : ” ایک دفعہ ایک شخص بے وقت نماز پڑھ رہا تھا کسی شخص نے حضرت علی کو کہا کہ آپ خلیفہ وقت ہیں آپ اسے منع کیوں نہیں کرتے۔فرمایا کہ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں اس آیت کے نیچے ملزم نہ بنایا جاؤں۔کہ ارَعَيْتَ الَّذِي يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَلَّى (العلق : 10-11) ہاں اگر کسی شخص نے عمد أنماز اس لئے ترک کی ہے کہ قضاء عمری کے دن پڑھ لوں گا تو اس نے ناجائز کیا ہے“۔پھر آپ فرماتے