خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 805 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 805

$2004 805 خطبات مسرور طرح پر بھی خدمت کی بجا آوری میں کوتا ہی نہیں چاہئے۔دیکھود نیا میں کوئی سلسلہ بغیر چندہ کے نہیں چلتا۔رسول کریم ع ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی سب رسولوں کے وقت چندے جمع کئے گئے۔پس ہماری جماعت کے لوگوں کو بھی اس امر کا خیال ضروری ہے۔اگر یہ لوگ التزام سے ایک ایک پیسہ بھی سال بھر میں دیویں تو بھی بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ہاں اگر کوئی ایک پیسہ بھی نہیں دیتا تو اسے جماعت میں رہنے کی کیا ضرورت ہے۔پھر فرمایا کہ : ” انسان اگر بازار جاتا ہے تو بچے کی کھیلنے والی چیزوں پر ہی کئی کئی پیسے خرچ کر دیتا ہے۔تو پھر یہاں اگر ایک ایک پیسہ دے دیوے تو کیا حرج ہے؟ خوراک کے لئے خرچ ہوتا ہے ، لباس کے لئے خرچ ہوتا ہے، اور ضرورتوں پر خرچ ہوتا ہے، تو کیا دین کے لئے ہی مال خرچ کرنا گراں گزرتا ہے۔دیکھا گیا ہے کہ ان چند دنوں میں صد ہا آدمیوں نے بیعت کی ہے مگر افسوس ہے کہ کسی نے ان کو کہا بھی نہیں کہ یہاں چندوں کی ضرورت ہے۔خدمت کرنی بہت مفید ہوتی ہے۔جس قدر کوئی خدمت کرتا ہے اسی قدر وہ راسخ الایمان ہو جاتا ہے۔اور جو کبھی خدمت نہیں کرتے ہمیں تو ان کے ایمان کا خطرہ ہی رہتا ہے۔چاہئے کہ ہماری جماعت کا ہر ایک متنفس عہد کرے کہ میں اتنا چندہ دیا کروں گا کیونکہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے عہد کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے رزق میں برکت دیتا ہے“۔پھر آپ نے فرمایا: ” بہت لوگ ایسے ہیں کہ جن کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ چندہ بھی جمع ہوتا ہے۔ایسے لوگوں کو سمجھانا چاہئے کہ اگر تم سچا تعلق رکھتے ہو تو خدا تعالیٰ سے پکا عہد کر لو کہ اس قدر چندہ ضرور دیا کروں گا اور ناواقف لوگوں کو یہ بھی سمجھایا جاوے کہ وہ پوری تابعداری کریں۔اگر وہ اتنا عہد بھی نہیں کر سکتے تو پھر جماعت میں شامل ہونے کا کیا فائدہ۔نہایت درجہ کا بخیل ( کنجوس ) اگر ایک کوڑی بھی روزانہ اپنے مال میں سے چندے کے لئے الگ کرے تو وہ بھی بہت کچھ دے سکتا