خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 796 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 796

$2004 796 خطبات مسرور کہ ایک فنڈ مہیا کریں، کچھ چندہ اکٹھا کریں، رقم اکٹھی کریں۔اس سوچ کے ساتھ یہ تحریک کی کہ مخالفین کی ریشہ دوانیاں، یہ شور شرابہ اس لئے ہے کہ جو تبلیغ کا حق ہمیں ادا کرنا چاہئے وہ ہم نے پوری طرح ادا نہیں کیا۔اس کے بارے میں سنجیدگی سے نہیں سوچا، احمدیت کے پیغام کو دنیا کے کناروں تک پہنچانے کے لئے جو کوشش ہونی چاہئے تھی وہ اس طرح نہیں کی گئی جوحق تھا۔اس لئے آپ نے فرمایا کہ جماعت کو اب اس بارے میں سنجیدگی سے سوچنا چاہئے۔اور احمدیت کا پیغام دنیا کے کونے کونے تک پہنچانا چاہئے۔اور اس کے لئے آپ نے جماعت کو مالی قربانی کی تحریک کی۔فرمایا کہ تین سال میں کم از کم 27 ہزار روپیہ جمع کریں۔لیکن یہ بات دیکھ کر دل اللہ تعالیٰ کی حمد سے بھر جاتا ہے کہ مسیح موعود کی اس پیاری جماعت نے تین سال میں 27 ہزار جمع کرنے کی بجائے پہلے سال ہی ایک لاکھ روپیہ پیش کر دیا۔( یہ ستائیس ہزار روپیہ تین سال میں جمع ہونا تھا) اور تین سال میں چار لاکھ روپے سے زیادہ کی قربانی کی۔آج ہم اس رقم کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ایک تو روپے کی قیمت آج کل کے لحاظ سے بہت بہتر تھی۔آج تو پاؤنڈ ایک سو دس روپے میں آجاتا ہے۔اس لئے تصور نہیں ہے۔پھر جماعت کے افراد کی مالی حالت بھی ایسی نہیں تھی کہ کہہ سکیں کہ صاحب ثروت اور امیر لوگوں نے قربانی کر دی ہوگی نہیں، بلکہ دو آنے چار آنے ، روپیہ، دو روپیہ پیش کرنے والے لوگ تھے اور انہیں کی تعداد تھی جو اکثریت میں تھی۔اپنے پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کو سوکھی روٹی کھا کر یہ قربانیاں کی گئی تھیں کہ خدا کے خلیفہ نے ہمیں آج پکارا ہے کہ میرے انصار بن کر آؤ اپنی زندگیوں میں مزید سادگی پیدا کرو اور اس مال میں سے جس کی تمہیں ضرورت ہے خرچ کرو، اللہ کی راہ میں قربان کرو، اللہ کی خاطر اس کو دو۔کیونکہ آج دشمن اس سوچ میں ہے کہ قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجا دے، احمدیت کو جڑ سے ختم کر دے، مقامات مقدسہ کی بے حرمتی کرے۔