خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 75 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 75

$2004 75 خطبات مسرور باتوں کی نصیحت فرمائی۔ان میں نمبر ایک یہ تھی کہ جو لوگ مجھ سے مال جو جاہ وغیرہ میں فوقیت رکھتے ہیں یعنی مالی لحاظ سے زیادہ اچھے ہیں، ان کی طرف نہ دیکھوں بلکہ ان لوگوں کو دیکھوں جو مجھ سے کمتر ہیں تا کہ میرے دل میں شکر کا جذبہ ابھرے۔دوسری بات یہ نصیحت فرمائی کہ مسکینوں سے محبت کرو اور ان کے ساتھ جاؤ۔اور پھر تیسری بات یہ فرمائی کہ میرے اعزا اور رشتہ دار چاہے مجھ سے خفا ہوں اور میرے حقوق ادا نہ کریں تب بھی میں ان سے اپنا تعلق جوڑے رکھوں اور ان کے حقوق ادا کرتارہوں۔(ترغیب و ترہیب بحواله طبرانی، المعجم الطبرانی جلد ٢ صفحه ١٥٦) صلى الله حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: غریب مسکین کو صدقہ دینے سے صرف صدقے کا ثواب ملتا ہے اور غریب رشتہ دار کو دینے سے دوہرا ثواب ملتا ہے۔ایک صدقے کا، دوسرا رشتے داری کے حقوق ادا کرنے کا۔صدقے والی اور بات ہوتی ہے اور ان کی مدد کرنے کی کہ ان کے مالی حالات میں بہتری ہو، مددکرنے کی غرض نہیں ہوتی۔اس کا نام صدقہ نہ رکھیں لیکن مد دضرور کرنی چاہئے۔پھر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ دوسروں کی تکلیف کی پیروی کرنے والے نہ بنو۔اس طرح نہ سوچو کہ لوگ ہمارے ساتھ اچھا سلوک کریں گے تو ہم بھی ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے۔اور اگر وہ ہم پر ظلم کریں گے تو ہم بھی ان پر ظلم کریں گے۔بلکہ اپنے آپ کو اس بات پر قائم کرو کہ لوگ تم سے اچھا سلوک کریں گے تو تم بھی ان سے اچھا سلوک کرو گے۔اور اگر برا برتاؤ کریں گے تو پھر بھی تم ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کروگے، بلکہ نیکی کرو گے۔تو یہ آج کل احمدی کا ہی طرہ امتیاز ہے کہ باوجود سختیوں کے اور تنگیوں کے اپنے ہمسایوں کے لئے دل میں در در رکھتے ہیں۔کہیں ضرورت پیش آجائے ان کی خدمت کے لئے فوری طور پر اپنے آپ کو پیش کر دیتے ہیں۔ہر وقت اسی بات پر کمر بستہ رہتے ہیں۔