خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 74 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 74

$2004 74 خطبات مسرور ہمسایوں کو دکھ دینے کے لئے حضور کی مسجد یعنی خدا کے گھر کا رستہ بند کر دیا اور بعض غریب احمدیوں کو ایسی ذلت آمیز اذیتیں پہنچا ئیں کہ جن کے ذکر تک سے شریف انسان کی طبیعت حجاب محسوس کرتی ہے۔مگر حضور کی رحمت اور شفقت کا یہ عالم تھا کہ مرزا نظام الدین صاحب جیسے معاند کی بیماری کا علم پا کر بھی حضور کی طبیعت بے چین ہوگئی۔(سیرت طیبہ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب صفحه ۲۹۱،۲۹۰) تو یہ ہے اس مسیح اور مہدی کا اسوہ۔اب ہم میں سے ہر ایک کو جو آپ کی جماعت کی طرف منسوب ہورہے ہیں۔ہمیں اپنا محاسبہ کرنا چاہئے کہ ہم کس حد تک اس پر عمل کرتے ہیں۔بعض دفعہ بعض ایسے رشتہ دار بھی ہوتے ہیں، ہمسائے بھی ہوتے ہیں، جن پر جتنا چاہے حسن سلوک کرو جب بھی موقع ملے نقصان پہنچانے سے باز نہیں آتے۔ان کی سرشت میں ہی نقصان پہنچانا ہوتا ہے۔ان کاوہی حساب ہوتا ہے کہ بچھوؤں کی ایک قطار جا رہی تھی کسی نے پوچھا کہ اس میں سردار کون ہے۔انہوں نے کہا کہ جس کے ڈنگ پر ہاتھ رکھ دو ہی سردار ہے، وہ ڈنگ مارے گا۔لیکن حکم کیا ہے کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے۔ایسے لوگوں کے بارہ میں حسن ظن کی ایک روایت ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! میرے کچھ رشتہ دار ہیں۔میں ان سے تعلق جوڑتا ہوں وہ تو ڑتے ہیں۔میں احسان کرتا ہوں وہ بدسلوکی کرتے ہیں۔میرے نرمی اور حلم کے سلوک کا جواب وہ زیادتی اور جہالت سے دیتے ہیں۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر وہ ایسا ہی کرتے ہیں جیسا تم نے بیان کیا تو تم گویا ان کے منہ پر خاک ڈال رہے ہو ( یعنی ان پر احسان کر کے ان کو ایسا شرمسار کر کے رکھ دیا ہے کہ وہ منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے۔) اور اللہ کی طرف سے تمہارے لئے ایک مددگار فرشتہ اس وقت تک مقر ر ر ہے گا جب تک تم اپنے حسن سلوک کے اس نمونہ پر قائم رہو گے۔(مسند احمد جلد ۲ ص ۳۰۰ مطبوعه (بيروت) پھر حضرت ابوزر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میرے محبوب علی نے مجھے چند