خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 769 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 769

$2004 769 خطبات مسرور فرماتا ہے کہ مَا كَانَ اللهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ ﴾۔اس لئے اگر تم چاہتے ہو کہ اس عذاب الہی سے تم محفوظ رہو تو استغفار کثرت سے پڑھو۔( ملفوظات جلد اول صفحه ۱۳۴ الحكم ۲۴ جولائی ۱۹۰۱ء) اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ اللہ ایسا نہیں کہ انہیں عذاب دے جبکہ وہ بخشش طلب کر رہے ہیں۔پھر ایک روایت ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بڑا حیا والا ہے۔بڑا کریم اور رخی ہے جب بندہ اس کے حضور دونوں ہاتھ بلند کرتا ہے۔تو وہ ان کو خالی اور نا کام واپس کرنے سے شرماتا ہے۔یعنی صدق دل سے مانگی گئی جو دعا ہے اس کو رد نہیں کرتا اس کو قبول کر لیتا ہے۔صلى الله۔(ترمذی کتاب الدعوات باب في دعاء النبي ) اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے جو مانگیں صدق دل سے مانگنا چاہئے۔گزشتہ گناہوں اور غلطیوں کی معافی مانگی جائے اور آئندہ کے لئے نیکیوں پر قائم رہنے کی توفیق اللہ تعالیٰ سے مانگی جائے۔اور پھر اس کے لئے کوشش بھی کی جائے تو اللہ تعالی مدد کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ”جس طرح خدا تعالیٰ کی کتابوں میں نیک انسان اور بد انسان میں فرق کیا گیا ہے اور ان کے جدا جدا مقام ٹھہرائے ہیں اسی طرح خدا تعالیٰ کے قانون قدرت میں ان دو انسانوں میں بھی فرق ہے جن میں سے ایک خدا تعالیٰ کو چشمہ فیض سمجھ کر بذریعہ حالی و قالی دعاؤں کے اس سے قوت اور امداد مانگتا اور دوسر اصرف اپنی تدبیر اور قوت پر بھروسہ کر کے دعا کو قابل مضحکہ سمجھتا ہے بلکہ خدا تعالیٰ سے بے نیاز اور متکبرانہ حالت میں رہتا ہے۔جو شخص مشکل اور مصیبت کے وقت خدا سے دعا کرتا اور اس سے حل مشکلات چاہتا ہے وہ بشرطیکہ دعا کو کمال تک پہنچاوے“۔یہاں شرط یہ لگائی کہ دعا کو کمال تک پہنچا دے۔” خدا تعالیٰ سے اطمینان اور حقیقی خوشحالی پاتا ہے۔اور اگر بالفرض وہ مطلب اس کو نہ ملے تب بھی کسی اور قسم کی تسلی اور سکینت خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کو عنایت ہوتی ہے“۔اگر دعا قبول نہیں بھی ہوتی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سکینت عطا ہو جاتی ہے۔گو کام اس طرح نہیں ہوتا جس طرح اس کی خواہش ہو۔” اور وہ ہرگز