خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 748 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 748

$2004 748 خطبات مسرور کہ میں اس کی جزا ہو جاتا ہوں۔پھر فرمایا کہ روزہ ڈھال ہے۔حفاظت کا ایک ایسا مضبوط ذریعہ ہے جس کے پیچھے چھپ کر تم اپنے آپ کو شیطان کے حملوں سے محفوظ کر سکتے ہو اور وہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ روزے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی کرو اور برائیوں سے اور لڑائی جھگڑوں سے بھی بچو۔یہاں تک کہ اگر کوئی تمہیں گالی بھی دے تو غصے میں نہ آؤ طیش میں نہ آؤ بلکہ کہو کہ میں روزہ دار ہوں۔رمضان میں ہر احمدی اگر یہ عہد کرے کہ ہر لیول (Level) پر گھروں میں بھی، ماحول میں بھی ، باہر بھی اور دوستوں میں بھی اس کے مطابق عمل کرنا ہے تو اسی ایک بات سے کہ گالی کا جواب نہیں دینا لڑنا جھگڑنا نہیں میں سمجھتا ہوں کہ آدھے سے زیادہ جھگڑے ہمارے معاشرے کے ختم ہو سکتے ہیں۔تو ایسے لوگوں کو جو خوشیاں ملنی ہیں ان کے ساتھ سب سے بڑی یہ خوشی ہے۔فرمایا کہ وہ اس روزے کی وجہ سے اپنے رب کا قرب حاصل کرے گا۔تو یہ بھی واضح ہو گیا کہ روزے کے بعد یہ عمل جاری رہیں گے تو اللہ تعالیٰ کا قرب بھی حاصل ہوگا اور ہوتا رہے گا ورنہ تو یہ عارضی چیز ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہ تو نہیں کہا کہ روزے میں ، رمضان میں میرا قرب حاصل کرو اس کے بعد جو مرضی کرتے رہو بلکہ جونیکیاں اختیار کروان کو پھر مستقل اپنی زندگیوں کا حصہ بنالو۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اعمال کی کیفیت اللہ تعالیٰ کے حضور سات طرح ہے۔دو عمل ایسے ہیں جن کے کرنے سے دو چیزیں واجب ہو جاتی ہیں اور دو عمل ایسے ہیں جن کا ان کے برابر ہی اجر ہوتا ہے۔اور ایک عمل ایسا ہے جس کا دس گنا اجر ہوتا ہے۔اور ایک عمل ایسا ہے جس کا سات سو گنا اجر ہوتا ہے۔اور ایک ایسا عمل ہوتا ہے جس کو بجالانے کا اجر اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو معلوم نہیں“۔وہ عمل جن سے دو چیزیں واجب ہوتی ہیں وہ یہ ہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے کہ وہ اخلاص کے ساتھ اس کی عبادت کرتا ہو اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو تو اس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی۔اور جو شخص اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے کہ وہ اس کا شریک ٹھہراتا ہو تو اس