خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 746
746 $2004 خطبات مسرور کے مریضوں اور مسافروں کے لئے رمضان میں سفر کی حالت میں روزہ نہ رکھنے کو بطور صدقہ ایک رعایت قرار دیا ہے۔کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ وہ تم میں سے کسی کو کوئی چیز صدقہ دے پھر وہ اس چیز کو صدقہ دینے والے کو واپس لوٹا دے۔(المصنف للحافظ الكبير ابي ابكر عبدالرزاق بن همام الصنعاني الجزء الثاني صفحه 565 باب الصيام في السفر تو یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے صدقہ مل رہا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ ہدایت دی کہ قرآن جو کہ ایک کامل اور مکمل شرعی کتاب ہے ، اس مہینے میں اتاری گئی ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام ہر سال جتنا قرآن نازل ہوا ہوتا تھار مضان میں اس کی دوہرائی کرواتے تھے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے جو رمضان تھا اس میں دو دفعہ دوہرائی کروائی گئی۔تو بتایا کہ اس میں ایک عظیم ہدایت ہے اس لئے تم بھی اس مہینے میں اس کو غور سے پڑھا کرو۔ویسے تو پڑھنا ہی ہے لیکن اس مہینے میں خاص طور پر۔اس طرف توجہ دو، اس کی تلاوت کرو، اس کا ترجمہ پڑھو۔اور جہاں جہاں درس کا انتظام ہے وہاں لوگ درس بھی سنیں۔کیونکہ بعض باتوں کا ہر ایک کو پتہ نہیں لگ رہا ہوتا۔تو تمہیں اس کا گہرا فہم ، ادراک اور سمجھ بوجھ حاصل ہو گی۔اور تمام امور اور تمام احکامات کی وضاحت ہو گی جن کو تم اپنی زندگیوں کا حصہ بنا سکتے ہو۔دوسری آیت میں بھی دوبارہ تاکید کی گئی ہے کہ روزے رکھو اور مسافر اور مریض ان دنوں میں روزے نہ رکھیں اور بعد میں پورے کریں۔اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا اور جو تم پر اس کے انعامات ہیں ان کا شکر ادا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکو،اس کے شکر گزار بندے بنو یہ شکر گزاری بھی تمہیں نیکیوں میں بڑھائے گی اور تقویٰ میں بڑھائے گی۔اور یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْآنُ ﴾ (البقرة : 186) سے ماہ رمضان کی عظمت معلوم ہوتی ہے۔صوفیاء نے لکھا ہے کہ یہ ماہ تنویر قلب کے لئے عمدہ مہینہ ہے۔کثرت سے اس میں مکاشفات ہوتے ہیں۔صلوۃ تزکیہ نفس کرتی