خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 745 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 745

$2004 745 خطبات مسرور آج بھی میری طبیعت اچھی نہیں اور میں نے روزہ نہیں رکھا۔“ اس پر (ملفوظات جلد پنجم صفحه ٦٧، ٦٨ ـ الحكم ٣١ جنوری ١٩٠٧) پھر آپ فرماتے ہیں : ” جو شخص مریض اور مسافر ہونے کی حالت میں ماہ رمضان میں روزہ رکھتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے صریح حکم کی نافرمانی کرتا ہے۔خدا تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ مریض اور مسافر روزہ نہ رکھے۔مرض سے صحت پانے اور سفر کے ختم ہونے کے بعد روزے رکھے۔خدا تعالیٰ کے اس حکم پر عمل کرنا چاہئے۔کیونکہ نجات فضل سے ہے نہ کہ اپنے اعمال کا زور دکھا کر کوئی نجات حاصل کر سکتا ہے۔خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ مرض تھوڑی ہو یا بہت اور سفر چھوٹا ہو یالمباہو بلکہ حکم عام ہے اور پر عمل کرنا چاہئے۔مریض اور مسافر اگر روزہ رکھیں گے تو ان پر حکم عدولی کا فتوی لازم آئے گا۔“ (ملفوظات جلد پنجم صفحه ۳۲۱ ، بدر ۱۷ اکتوبر ۱۹۰۷) بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو ضرورت سے زیادہ بختی اپنے اوپر وارد کرتے ہیں یا وارد کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج کل کا سفر کوئی سفر نہیں ہے اس لئے روزہ رکھنا جائز ہے۔آپ نے یہی وضاحت فرمائی ہے کہ نیکی یہ نہیں ہے کہ زبردستی اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالا جائے بلکہ نیکی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پابندی کی جائے اور اپنی طرف سے تاویلیں اور تشریحیں نہ بنائی جائیں۔جو واضح حکم ہیں ان پر عمل کرنا چاہئے۔اور یہ بڑا واضح حکم ہے کہ مریض اور مسافر روزہ نہ رکھے۔تو برکت اسی میں ہے کہ تعمیل کی جائے نہ کہ زبر دستی اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی کوشش کی جائے۔ایک روایت میں آتا ہے: ”حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے رمضان کے مہینے میں سفر کی حالت میں روزہ اور نماز کے بارے میں دریافت کیا۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رمضان میں سفر کی حالت میں روزہ نہ رکھو۔اس پر اس شخص نے کہا یا رسول اللہ ! میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا انتَ اقولی اَمِ الله؟ یعنی تو زیادہ طاقتور ہے یا اللہ؟ یقینا اللہ تعالی نے میری امت