خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 727
$2004 727 خطبات مسرور حکمت کی باتوں سے محروم کیا جاتا ہے جو اپنے مقابل کے سامنے جلدی طیش میں آ کر آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔گندہ دہن اور بے لگام کے ہونٹ لطائف کے چشمہ سے بے نصیب اور محروم کئے جاتے ہیں۔جو اس طرح سخت کلامی کرتا ہے اس کے منہ سے پھر اچھی باتیں نہیں نکلتیں۔" غضب اور حکمت دونوں جمع نہیں ہو سکتے۔جو مغلوب الغضب ہوتا ہے اس کی عقل موٹی اور فہم کند ہوتا ہے۔اس کو کبھی کسی میدان میں غلبہ اور نصرت نہیں دیئے جاتے۔غضب نصف جنون ہے جب یہ زیادہ بڑھتا ہے تو پورا جنون ہو سکتا ہے۔(ملفوظات جلد 3 صفحه 104 الحكم 10مارچ 1903) اب ہمارے خلاف یہی غصہ اسی لئے جنون کی حد اختیار کر گیا ہے۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ دلوں کی کچھ خواہشیں اور میلان ہوتے ہیں جن کی وجہ سے وہ کسی وقت بات سننے کے لئے تیار رہتے ہیں اور کسی وقت اس کے لئے تیار نہیں ہوتے اس لئے لوگوں کے دلوں میں ان میلانات کے تحت داخل ہوا کرو اور اسی وقت اپنی بات کہا کرو جبکہ وہ سننے کے لئے تیار ہوں۔اس لئے کہ دل کا حال یہ ہے کہ جب اس کو کسی بات پر مجبور کیا جائے تو وہ اندھا ہو جاتا ہے،( یعنی بات قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے)۔(کتاب الخراج۔ابویوسف) تو یہ ہے حکمت کہ جب بعض حالات ایسے ہوتے ہیں ، بعض مواقع ایسے آتے ہیں کہ اس وقت بات کرنی چاہئے جب دل بات سننے کی طرف مائل ہو۔اس کے لئے بہترین طریق یہی ہے جیسا کہ میں نے کہا کہ اپنے رابطے بڑھائیں۔مستقل مزاجی ہو، ایک تسلسل ہو تو جب ہی پتہ لگے گا کہ کس وقت کسی کے دل کی کیا کیفیت ہے۔پھر ایم ٹی اے پہ لایا جا سکتا ہے، مختلف پروگرام دکھائے جائیں مختلف وقتوں میں آتے ہیں کسی وقت کسی کو کوئی پروگرام پسند آ سکتا ہے اور یہ نہیں ہے کہ یہاں کے لوگوں کو ہمارے پروگراموں سے کوئی دلچسپی نہیں۔سکنتھو رپ (Scunthorp) میں گیا ہوں تو وہاں ڈاکٹر مظفر صاحب ہیں۔انہوں نے مجھے بتایا کہ ان کا ایک انگریز وہاں واقف ہے جو تقریباً