خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 720
خطبات مسرور $2004 720 تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ادْعُ إِلَى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِهِ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ﴾ (سورة النحل آیت نمبر: 126) اس کا ترجمہ یہ ہے کہ اپنے رب کے راستہ کی طرف حکمت کے ساتھ اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دے اور ان سے ایسی دلیل کے ساتھ بحث کر جو بہترین ہو۔یقیناً تیرا رب ہی اسے جو اس کے راستے سے بھٹک چکا ہو سب سے زیادہ جانتا ہے اور ہدایت پانے والوں پر بھی سب سے زیادہ علم رکھتا ہے۔اس آیت سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ کس مضمون پر میں کچھ کہنے والا ہوں۔چند ماہ پہلے بھی اسی مضمون یعنی دعوت الی اللہ پر تفصیل سے روشنی ڈال چکا ہوں لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا یہ تو ایک احمدی کا بنیادی کام ہے اور اس کی طرف جتنی بھی توجہ دلائی جائے کم ہے۔لندن سے چلتے وقت میرے ذہن میں تھا کہ ملک کے اس حصے میں جماعت کی تعداد بہت کم ہے اور اس طرف جماعت کو توجہ دلانی چاہئے۔اب کچھ اسائکم (assylum) لینے والے لوگ بھی یہاں آ رہے ہیں۔اور اس وقت کافی آچکے ہیں۔یعنی جو پرانی تعداد تھی اس سے گزشتہ چارسالوں میں دگنی سے زیادہ ہو گئی ہے۔اگر آپ سب لوگ صحیح طریق پر اس طرف توجہ دیں اور دعوت الی اللہ کریں تو دنیا کمانے