خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 715
$2004 715 مسرور نماز کیا ہے؟ یہی کہ اپنے عجز و نیاز اور کمزوریوں کو خدا کے سامنے پیش کرنا اور اسی سے اپنی حاجت روائی چاہنا۔کبھی اس کی عظمت اور اس کے احکام کی بجا آوری کے واسطے دست بستہ کھڑا ہونا اور کبھی کمال مذلت اور فروتنی سے اس کے آگے سجدہ میں گر جانا۔اس سے اپنی حاجات کا مانگنا، یہی نماز ہے۔ایک سائل کی طرح کبھی اس مسئول کی تعریف کرنا کہ تو ایسا ہے۔اس کی عظمت اور جلال کا اظہار کر کے اس کی رحمت کو جنبش دلانا ، پھر اس سے مانگنا۔پس جس دین میں یہ نہیں ، وہ دین ہی کیا ہے۔انسان ہر وقت محتاج ہے۔اس سے اس کی رضا کی راہیں مانگتار ہے اور اس کے فضل کا اسی سے خواستگار ہو۔کیونکہ اسی کی دی ہوئی توفیق سے کچھ کیا جا سکتا ہے۔اے خدا ہم کو توفیق دے کہ ہم تیرے ہو جائیں اور تیری رضا پر کار بند ہو کر تجھے راضی کر لیں۔خدا تعالیٰ کی محبت ، اسی اس کا خوف اس کی یاد میں دل لگارہنے کا نام نماز ہے اور یہی دین ہے۔(ملفوظات جلد 3 صفحه 188 189 الحكم (31 مارچ 1903 | پس وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں، جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا ہے کہ بعض مجبوریوں اور بعض کاموں کی وجہ سے نماز وقت پر نہیں پڑھ سکتے ان کو یہ ارشاد اور یہ حدیث اپنے سامنے رکھنی چاہئے۔کپڑے گندے ہونے کا بہانہ نہ ہی کوئی اور بہانہ ہی سہی لیکن بات یہی ہے کہ کسی بہانے سے نماز کو ٹالا جا سکے۔پس یہ بنیادی ستون ہے اس کی طرف ہر احمدی کو بہت توجہ دینی چاہئے اور ٹالنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔پھر آپ فرماتے ہیں : ”جہاں تک ہو سکے پاک اور صاف ہوکر اور نفی خطرات کر کے نماز ادا کریں اور کوشش کریں کہ نماز ایک گری ہوئی حالت میں نہ رہے اور اس کے جس قدر ارکان حمد وثنا حضرت عزت اور توبہ واستغفار اور دعا اور درود ہیں وہ دلی جوش سے صادر ہوں۔لیکن یہ تو انسان کے اختیار میں نہیں ہے کہ ایک فوق العادت محبت ذاتی اور خشوع ذاتی اور محویت سے بھرا ہوا ذوق و شوق