خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 708 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 708

708 $2004 خطبات مسرور بہت بڑی ذمہ داری ہے جماعت کے ہر فرد پر، ہر بچے پر ، ہر بڑے پر، ہر عہدیدار پر کہ اللہ تعالیٰ کے انعام کی قدر کرتے ہوئے پاک نمونے دکھا ئیں۔عبادتوں کے معیار قائم رکھیں تا کہ سب سے بڑی نعمت جو خلافت کی نعمت ہے وہ آپ میں ہمیشہ قائم رہے۔نمازوں کی اہمیت کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کس قدر تا کید فرمائی ہے اور ڈرا کر بھی اور جزا کے لالچ کے ساتھ بھی اس طرف توجہ دلائی ہے، اس کے بارے میں چند روایات سناتا ہوں۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کفر اور ایمان کے درمیان فرق کرنے والی چیز ترک نماز ہے۔(ترمذی کتاب الایمان باب ما جاء في ترك الصلوة دیکھیں کس قدر سخت ارشاد ہے کہ مومن وہ ہے، ایمان لانے والا وہ ہے جو نمازوں میں با قاعدہ ہے ورنہ اس میں اور کافر میں کوئی فرق نہیں۔اللہ تعالیٰ نے تو اپنے بندوں سے نرمی کے سلوک کرنے کے لئے کئی سہولتیں دی ہوئی ہیں اگر پھر بھی کوئی توجہ نہیں دیتا تو پھر یہ بدقسمتی ہے اور انتہائی بھیانک انجام ہے جو اس حدیث میں بتایا گیا۔اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس سلسلے میں کبھی کبھار اگر کوئی غلطی ہوتی ہے تو درگز رفرمانے کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا رب عزوجل فرشتوں سے فرمائے گا حالانکہ وہ سب سے زیادہ جاننے والا ہے کہ میرے بندے کی نما ز کو دیکھو کیا اس نے اس کو مکمل طور پر ادا کیا تھا یا نامکمل چھوڑ دیا تھا۔پس اگر اس کی نماز مکمل ہوگی تو اس کے نامہ اعمال میں مکمل نماز لکھی جائے گی۔اور اگر اس نماز میں کچھ کمی رہ گئی ہو گی تو فرمائے گا دیکھیں کیا میرے بندے نے کوئی نفلی عبادت کی ہوئی ہے۔پس اگر اس نے کوئی نفلی عبادت کی ہوگی تو فرمائے گا کہ میرے بندے کی فرض نماز میں جو کمی رہ گئی تھی وہ اس کے نفل سے پوری کر دو۔پھر تمام اعمال کا