خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 707
$2004 707 خطبات مسرور صاحب کہہ رہے تھے کہ ہمارا خیال ہے اگلے دس پندرہ سال کے لئے یہ مسجد ہمارے لئے کافی ہے۔میں نے ان کو کہا ایک تو اگر سارے نمازی آنے شروع ہوں تو یہ مسجد کافی نہیں ہے۔دوسرے کیا خیال ہے آپ کا دس پندرہ سال تک آپ نے دعوت الی اللہ نہیں کرنی ؟ اپنی تعداد کو نہیں بڑھانا ؟ پھر یہ بھی ذکر کر دوں جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ اس آیت میں آیا ہے کہ نیک باتوں کا حکم دیں گے۔اس لئے اس مسجد کے افتتاح کے دن سے یہ بھی عہد کریں کہ آپس میں بھی پیار اور محبت سے رہیں گے، تمام رنجشیں دور کریں گے۔اور اس مسجد سے ہمیشہ امن اور سلامتی کا پیغام دنیا کو پہنچاتے رہیں گے۔اور پھر اس نیت سے مسجد میں آکر دعا بھی کریں گے تو اللہ تعالی ذاتی دعائیں بھی قبول فرمائے گا اور جماعتی مضبوطی بھی عطا فرمائے گا انشاء اللہ۔پھر صرف یہی نہیں کہ خود ہی مسجد میں آنا ہے بلکہ اپنی اولادوں کو بھی مسجد میں لانا ہے اور ان کا بھی مسجد سے تعلق پیدا کرنا ہے۔ان کو بھی ایک خدا کی عبادت کی طرف توجہ پیدا کروانی ہے۔ان کی بھی اس نہج پر تربیت کرنی ہے کہ ان کو بھی احساس ہو کہ ان کا اوڑھنا بچھونا نمازوں میں ہے، اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے میں ہے۔اس معاشرے میں جہاں وہ رہ رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان کی تربیت کرنی ہوگی، ان کو برے بھلے کی تمیز سکھانی ہوگی۔اگر اپنے گھر سے ہی نیکیوں کو پھیلانے اور نمازوں کو قائم کرنے کی کوشش کریں گے تو پھر تو کامیابی ہوگی۔اگر نہیں کریں گے تو اس کا باہر بھی کوئی اثر نہیں ہوگا۔کوئی دعوت الی اللہ بھی کارگر نہیں ہوگی۔اگر ہر عہدیدار خواہ وہ جماعتی عہدیدار ہو یا ذیلی تنظیموں انصار، خدام الجنہ کے عہد یدار ہوں۔ان نیکیوں اور عبادتوں کو اپنے گھروں میں رائج نہیں کریں گے تو باہر بھی کوئی آپ کی بات نہیں سنے گا۔انقلاب لانے والے پہلے اپنے اندر تبدیلیاں پیدا کرتے ہیں۔وہی قوم ترقی کرتی ہے جن کے لیڈروں کے اپنے نمونے اعلیٰ ہوں، جن کے عہدیدار خود مثالیں قائم کرنے والے بنیں۔پس یہ