خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 705 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 705

$2004 705 خطبات مسرور تا کہ اللہ کے عبادت گزار بندے بنو اور اس کے فضلوں کو مزید حاصل کرو۔اور تمہاری نسلیں بھی ان فضلوں کو حاصل کریں تا کہ تمہاری یہ مضبوطی، یہ تمکنت قائم رہے۔ایک خدا کے آگے جھکنے والے، اس کی وحدانیت قائم کرنے والے بنے رہیں۔سورۃ نور میں، آیت استخلاف جسے ہم کہتے ہیں، اس میں بھی یہی مضمون بیان فرمایا گیا ہے کہ خلافت عطا فرمائی تا کہ تم میں مضبوطی قائم رہے۔آئندہ بھی یہ انعام ملتا رہے گا انشاء اللہ لیکن ان کو ملتا رہے گا جو میری عبادت کریں گے۔فرمایا یعبد و منی لا يشركون بى شيا ( النور : 55 ) یعنی یہ انعام میری اس طرح عبادت کرنے والوں کے لئے ہے جو عبادت کا حق ہے کسی بھی لحاظ سے شرک کرنے والے نہ ہوں، چھپا ہوا شرک بھی ان میں نہ پایا جاتا ہو۔ایسے عبادت کرنے والوں کو انعام ملتا رہے گا۔جب نماز کا وقت ہو تو تمام کاروبار بند کر کے اللہ تعالیٰ کے آگے جھکو۔تمہارے کاروبار، تمہاری خواہشات تمہاری ذمہ داریاں تمہیں اس شرک پر آمادہ نہ کریں۔یہ بھی چھپا ہوا ایک شرک ہے۔تمہیں یہ خیال نہ آ جائے کہ اس وقت تو کام کا وقت ہے۔اس وقت تو کاروبار کا وقت ہے۔اگر میں نے تھوڑی دیر کے لئے بھی چھٹی کی تو میرا نقصان ہو گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے لوگ تو اپنے کاروباروں کو میرے مقابلے میں بت بنا کے بیٹھے ہوئے ہیں ان میں کس طرح مضبوطی آ سکتی ہے۔پھر کسی نے اولا دکو بت بنایا ہوا ہے۔پھر اور اس طرح بے شمار چیزیں ہیں۔تو یہ سب بت توڑنے ہوں گے۔ہلکے سے ہلکے شرک سے بھی بچنا ہو گا۔تو پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش بھی ہو گی۔مسجد کو نمازیوں سے بھرنے کی کوشش کرو گے تو آج جو تم ایک مسجد پر خوش ہورہے ہو، اللہ تعالیٰ ایسی ہزاروں مسجد میں تمہیں عطا فرمائے گا۔لیکن شرط یہی ہے کہ مسجدوں کو نمازیوں سے بھر و۔آیت استخلاف سے اگلی آیت میں بھی یہی حکم ہے کہ نماز قائم کرو، نماز با جماعت پڑھو۔غرض مومن وہی ہے، اللہ تعالیٰ کے انعام پانے والے وہی ہیں ، خلافت سے وابستہ رہنے والے وہی ہیں ، اللہ تعالیٰ کی