خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 691
$2004 691 خطبات مسرور جب عمل کرنے کے بعد یہ سب کچھ حاصل ہو رہا ہے۔اور پھر جو دوسری مثال اس میں دی کہ جو اتنی نیکی رکھتا ہے گو وہ با قاعدہ گھر میں تلاوت تو نہیں کر رہا ہوتا ،ترجمہ پڑھنے والا تو نہیں ہے، اس پر غور کرنے والا تو نہیں ہے لیکن جب بھی جمعہ پر آتا ہے، درسوں پر آتا ہے، نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھتا ہے، وہاں قرآن کریم کی کوئی ہدایت کی بات سن لیتا ہے تو پھر اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔تو وہ اس کا مزا تو نہیں لیتا جو قرآن کریم کو پڑھنے، سمجھنے اور غور کرنے سے حاصل ہوسکتا ہے لیکن اپنے اندر تبدیلیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس سے بھی وہ کچھ نہ کچھ حصہ لے رہا ہوتا ہے۔اس مثال میں جس طرح بیان کیا گیا ایسے لوگ ہیں جو دنیا کے دکھاوے کے لئے قرآن کریم پڑھتے ہیں تو قرآن کریم کی خوشبو اس کو پڑھنے کی وجہ سے ماحول میں قائم ہو گی۔کوئی نیک فطرت اس سے فائدہ اٹھالے گا۔لیکن وہ شخص جو دکھاوے کی خاطر یہ سب کچھ کر رہا ہے اس شخص کو اس کا پڑھنا کوئی مٹھاس، کوئی خوشبو میسر نہیں کرسکتی۔کوئی فائدہ اس کو نہیں پہنچے گا۔اور پھر وہ شخص جو نہ قرآن پڑھتا ہے اور نہ اس پر عمل کرتا ہے، اس میں تو فرمایا کہ ایسی منافقت بھر گئی ہے کہ جس میں نہ خوشبو ہے اور نہ مزا ہے۔نہ وہ خود فیض پاسکتا ہے اور نہ ہی کوئی دوسرا اس سے فیض پا سکتا ہے۔اللہ تعالی ہر احمدی کو ایسا بننے سے محفوظ ر کھے۔نہ ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں میں سے کچھ لوگ اہل اللہ ہوتے ہیں۔راوی کہتے ہیں اس پر آپ سے دریافت کیا گیا یا رسول اللہ! خدا کے اہل کون ہوتے ہیں۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن والے اہل اللہ اور اللہ کے خاص بندے ہوتے ہیں۔(مسند احمد بن حنبل جلد 3 صفحه 128 مطبوعه بیروت) اہل اللہ بننے کے لئے جیسا کہ پہلی حدیث میں بیان فرمایا گیا ہے۔قرآن کریم کو