خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 64 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 64

خطبات مسرور $2004 64 تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالْدَيْنِ إِحْسَانًا وَّبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتْمَى وَالْمَسْكِيْنِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجُنُبِ وَابْنِ السَّبِيْلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرًا﴾۔(النساء :۳۷) گزشتہ خطبہ میں میں نے والدین سے حسن سلوک اور ان کے حقوق کے بارہ میں کچھ عرض کیا تھا۔ابھی جو آیت میں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری عبادت کرو اور اس طرح عبادت کرو کہ جو عبادت کا حق ہے۔یہ چھوٹے بت یا بڑے بت یا دلوں میں بسائے ہوئے بت تمہیں کسی طرح بھی میری عبادت سے روک نہ سکیں۔پھر والدین سے حسن سلوک کا حکم ہے،اُن سے حسن سلوک کرو۔اور اس حسن سلوک کا بھی مختلف جگہوں پر مختلف پیرایوں میں ذکر آیا ہے۔پھر فرمایا کہ یہ دو بنیادی باتیں ہیں اگر تم میں پیدا ہو گئیں تو پھر آگے ترقی کرنے کے لئے اور منازل بھی طے کرنی ہوں گی۔دین کی صحیح تعلیم پر عمل کرنے کے لئے تم نے اخلاق کے اور بھی اعلیٰ معیار دکھانے ہیں۔اگر یہ معیار قائم ہو گئے تو پھر تم حقیقی معنوں میں مسلمان کہلانے کے مستحق ہو اور اگر یہ معیار قائم کر لئے اور اپنے اندر اعلیٰ اخلاق پیدا کر لئے تو پھر ٹھیک ہے تم نے مقصد پا لیا اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بن گئے اور انشاء اللہ بنتے رہو گے۔اور اگر یہ اعلیٰ معیار قائم نہ کئے اور تکبر دکھاتے رہے اور ہر وقت اس فکر میں رہے کہ اپنے آپ کو میں کسی طریقے سے نمایاں کروں تو یاد رکھو کہ یہ باتیں اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہیں۔پھر تو حقوق العباد ادا کرنے والے نہیں ہو گے بلکہ اپنی عبادتوں کو ضائع