خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 680 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 680

$2004 680 خطبات مسرور انفرادی ہوں، گروہی ہوں یا ملکی ہوں ، ان کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ خدا کے سوا اس دنیا کی مادی چیزوں کو خدا بنایا ہوا ہے پس آج ہر احمدی کو یہ بھی کوشش کرنی چاہئے ، یہ بھی عہد کرنا چاہئے کہ دنیا میں صلح کاری کی بنیاد ڈالنے کے لئے آپس میں صلح کو رواج دینے کے لئے ان دنیا وی خداؤں کو بھی تو ڑنا ہوگا اور اس میں ہماری بقا ہے، اسی میں ہماری زندگی ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے جو ہمیں دعا سکھائی ہے۔اس کا میں پہلے ذکر کر آیا ہوں کہ ہدایت کے بعد ہمارے دل کہیں ٹیڑھے نہ ہو جائیں۔یہ دعا کرتے رہنا چاہئے۔اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی ہو سکتا ہے۔پس اللہ سے فضل مانگتے رہیں۔اس سے رحم ما نگتے رہیں۔اس کے حکموں کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کرتے رہیں اور پھر جیسا کہ فرمایا اللہ کے فیصلوں کا انتظار کریں دیکھیں کس طرح خدا تعالیٰ آتا ہے۔اب آخری اقتباس پڑھتا ہوں۔آپ نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ” پس اٹھو اور تو بہ کرو اور اپنے مالک کو نیک کاموں سے راضی کرو اور یا درکھو اعتقادی غلطیوں کی سزا تو مرنے کے بعد ہے اور ہندو یا عیسائی یا مسلمان ہونے کا فیصلہ تو قیامت کے دن ہوگا۔لیکن جو شخص ظلم اور تعدی اور فسق و فجور میں حد سے بڑھتا ہے اس کو اسی جگہ سزا دی جاتی ہے ، تب وہ خدا کی سزا سے کسی طرح بھاگ نہیں سکتا۔سوا اپنے خدا کو جلدی راضی کر لو اور قبل اس کے کہ وہ دن آوے جو خوفناک دن ہے تم خدا سے صلح کرلو۔وہ نہایت درجہ کریم ہے، ایک دم کے گداز کرنے والی تو بہ سے ستر برس کے گناہ بخش سکتا ہے اور یہ مت کہو کہ تو بہ منظور نہیں ہوتی۔یہ ستر برس کے گناہ سے مراد لیلۃ القدر ہی ہے۔یادرکھو کہ تم اپنے اعمال سے کبھی بچ نہیں سکتے۔ہمیشہ فضل بچاتا ہے نہ اعمال۔اے خدائے کریم و رحیم ہم سب پر فضل کر کہ ہم تیرے بندے اور تیرے آستانہ پر گرے ہیں۔(لیکچرلاہور روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 174) اللہ تعالیٰ اس کی توفیق دے۔