خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 677
$2004 677 خطبات مسرور کاری کے ساتھ زندگی بسر کرنا پس بلا شبہ صلح کاری اعلیٰ درجہ کا خلق ہے اور انسانیت کے لئے از بس ضروری ہے اور اس خلق کے مناسب حال طبعی قوت جو بچہ میں ہوتی ہے“۔یعنی کہ بچے میں یہ صفت ہوتی ہے آپ بچوں کو دیکھ لیں ، جب آپس میں جب لڑتے بھی ہیں تو فورا صلح میں بھی آجاتے ہیں۔اور ان کے دلوں میں کینے بھی نہیں رہتے۔تو جب آپ اس کو سنوارتے ہیں مزید بہتر ہوتی ہے۔سیدکل ہوتی ہے۔اس میں اس عادت کو مزید ٹھیک کرتے ہیں یا اس عادت کو پختہ کرتے ہیں اور جب عادی ہو جاتے ہیں تو یہ خلق بن جاتا ہے۔۔فرمایا : یہ تو ظاہر ہے کہ انسان صرف طبعی حالت میں یعنی اس حالت میں کہ جب انسان عقل سے بے بہرہ ہو صلح کے مضمون کو نہیں سمجھ سکتا۔اور نہ جنگ جوئی کے مفہوم کو سمجھ سکتا ہے پس اس وقت ایک عادت موافقت کی اس میں پائی جاتی ہے وہی صلح کاری کی عادت کی جڑ ہے۔لیکن چونکہ وہ عقل وتدبر اور خاص ارادہ سے تیار نہیں کی جاتی اس لئے خلق میں داخل نہیں۔بلکہ خلق میں تب داخل ہوگی کہ جب انسان بالا رادہ اپنے تئیں بے شر بنا کر صلح کاری کے خلق کو اپنے محل پر استعمال کرے۔اور بے محل استعمال کرنے سے مجتنب رہے۔اس میں اللہ جلشانہ ی تعلیم فرماتا ہے ﴿وَأَصْلِحُوْا ذَاتَ بَيْنِكُمْ (الانفال: 1) ﴿وَالصُّلْحُ خَيْرٌ (النساء: 129) ﴿وَإِنْ جَنَحُوْا للْسِلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا﴾ (الانفال:62) ﴿وَعِبَادُ الرَّحْمنِ الَّذِيْنَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا﴾ (الفرقان: 64) ﴿وَإِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا﴾ (الفرقان: 73) ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ ﴾ ( حم السجدة: 35) یعنی آپس میں صلح کاری اختیار کر و صلح میں خیر ہے۔جب وہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی جھک جاؤ۔خدا کے نیک بندے صلح کاری کے ساتھ زمین پر چلتے ہیں اور اگر کوئی لغو بات کسی سے سنیں یا جنگ کا مقدمہ اور لڑائی کی تمہید ہو تو بزرگانہ طور پر طرح دے کر چلے جاتے ہیں یعنی بیچ کر نکل جاتے ہیں اور ادنی ادنی بات پر لڑنا نہیں شروع کر دیتے۔یعنی جب تک کوئی