خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 662 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 662

$2004 662 خطبات مسرور ظاہر کر دیں۔پس تم اے مسلمانو ! عام بھلائیوں کو دوڑ کر لو کیونکہ تم تمام قوموں کا مجموعہ ہو اور تمام فطرتیں تمہارے اندر ہیں۔(چشمه معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحه (146) فرمایا کہ: چونکہ اے مسلمانوں تمہارے اندر تمام قوموں کا مجموعہ ہے اس لئے تمام قوموں کی نیکیاں بھی تمہارے اندر ہونی چاہئیں۔اور ان کو حاصل کرنے کی کوشش بھی کرو۔پس آج ہم احمدیوں کے لئے ہی یہ حکم ہے جن میں مختلف قوموں کے نیک فطرت لوگ داخل ہورہے ہیں اس کا ایک یہ مطلب بھی ہے کہ جو بھی ایک دوسرے کی نیکیاں ہیں وہ اپنا ئیں۔پھر آپ فرماتے ہیں: ”اسلام میں انسان کے تین طبقے رکھے ہیں، ظَالِمٌ لِنَفْسِه، مُقْتَصِدٌ اور سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ تو وہ ہوتے ہیں جو نفس امارہ کے پنجے میں گرفتار ہوں اور ابتدائی درجہ پر ہوتے ہیں جہاں تک ان سے ممکن ہوتا ہے وہ سعی کرتے ہیں کہ وہ اس حالت سے نجات پائیں۔مُقتصد وہ ہوتے ہیں جن کو میانہ رو کہتے ہیں۔ایک درجہ تک وہ نفس امارہ سے نجات پا جاتے ہیں لیکن پھر بھی کبھی کبھی اس کا حملہ ان پر ہوتا ہے اور وہ اس حملہ کے ساتھ ہی نادم بھی ہوتے ہیں۔پورے طور پر ابھی نجات نہیں پائی ہوتی۔مگر سابِقٌ بِالْخَيْرَات وہ ہوتے ہیں کہ ان سے نیکیاں ہی سرزد ہوتی ہیں اور وہ سب سے بڑھ جاتے ہیں۔ان کی حرکات وسکنات طبعی طور پر اس قسم کی ہو جاتی ہیں کہ ان سے افعال حسنہ ہی کا صدور ہوتا ہے۔گویا ان کے نفس امارہ پر بالکل موت آ جاتی ہے۔اور وہ مطمئنہ حالات میں ہوتے ہیں۔ان سے اس طرح پر نیکیاں عمل میں آتی ہیں گویا وہ ایک معمولی امر ہے۔اس لئے ان کی نظر میں بعض اوقات وہ امر بھی گناہ ہوتا ہے جو اس حد تک دوسرے اس کو نیکی ہی سمجھتے ہیں۔(الحکم جلد 9 نمبر 39 مورخه 10 /نومبر 1905ء صفحه 5-6 )۔یعنی بعض دفعہ ایسے جو اللہ تعالیٰ کے اتنے قرب میں پہنچ جاتے ہیں ان کے لئے بعض ایسی باتیں جو ایک عام آدمی کے لئے نیکی ہو وہ بھی ان کے نزدیک گناہ ہوتی ہے۔