خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 661
$2004 661 مسرور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” انسان کو چاہئے کہ اپنا فرض ادا کرے اور اعمال صالحہ میں ترقی کرے۔الہام کرنا اور و یا دکھانا ی تو خدا تعالیٰ کا فعل ہے۔اس پر ناز نہیں کرنا چاہئے۔اپنے اعمال کو درست کرنا چاہئے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ۔أَوْلَئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّة البينة: 8) یہ نہیں کہا کہ جن کو کشوف اور الہامات ہوتے ہیں وہ خیر البریہ ہیں“۔(الحكم جلد نمبر 11 نمبر 41 مورخه 17 نومبر 1907ء صفحہ 13)۔بلکہ ایمان لانے والے اور نیک عمل کرنے والے ہی خیر البر یہ ہیں۔تو فرمایا ہے کہ یہ کوئی نیکی نہیں ہے کہ بعض لوگوں کو چار سچی خوا میں آجائیں تو سمجھتے ہیں ہم بڑے نیک ہو گئے ہیں۔نیکیوں میں آگے بڑھنے سے مراد صرف وہ شخص نہیں جس کو سچی خواب آ جائے۔لوگ بھی ایسے لوگوں کو بعض دفعہ خراب کر رہے ہوتے ہیں کہ فلاں کو بڑی سچی خوا میں آتی ہیں اس لئے دعا کروانے کے لئے اس کے پاس جاؤ۔تو ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کو کچی خوا ہیں آتی ہیں، الہام بھی ہوتے ہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمارہے ہیں یہ تو اللہ تعالیٰ کا فعل ہے کہ وہ کسی کو سچی خوا ہیں دکھا دے۔تمہاری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ ہر قسم کی نیکیوں میں آگے بڑھو، اگر سچی خواہیں آ بھی گئیں تو کسی قسم کی بڑائی نہیں پیدا ہونی چاہئے۔وہ بھی مزید اللہ کی طرف جھکانے والی اور نیکیوں میں بڑھانے والی ہوں۔کیونکہ آپ نے فرمایا کہ صرف سچی خوا ہیں دیکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں: ” پہلے نوع انسان صرف ایک قوم کی طرح تھی اور پھر وہ تمام زمین پر پھیل گئے۔تو خدا نے ان کی سہولت کے تعارف کے لئے ان کو قوموں پر منقسم کر دیا اور ہر ایک قوم کے لئے اس کے مناسب حال ایک مذہب مقرر کیا جیسا کہ وہ فرماتا ہے لِكُلِّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّ مِنْهَاجًا۔۔فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ﴾ (المائدہ: 49)۔۔۔ہر ایک قوم کے لئے ہم نے ایک مشرب اور مذہب مقرر کیا تاہم مختلف فطرتوں کے جو ہر بذریعہ اپنی مختلف ہدایتوں کے