خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 655
$2004 655 خطبات مسرور عہد یدار کی وجہ سے، امام الصلواۃ کی وجہ سے کسی لڑائی کی وجہ سے کسی سے کسی رنجش کی وجہ سے تو پھر اللہ کی عبادت کرنا بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ایسی کئی مثالیں سامنے آجاتی ہیں یا بعض لوگ ایسے بناوٹی نیک ہوتے ہیں کہ انہیں خیال آ جاتا ہے کہ ہم نے بہت نیکیاں کر لیں ، اب ضرورت نہیں ہے۔تو فرمایا کہ یہ نہیں ہے، نیکی وہ ہے جس میں بڑھتے چلے جاؤ اور مرتے دم تک نیکیاں کرنے کی کوشش کرتے چلے جاؤ اور ان میں بڑھنے کی کوشش کرتے جاؤ۔اسی میں تمہاری فلاح ہے، اسی میں تمہاری کامیابی ہے اور اسی سے تم اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکتے ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف روایات میں مختلف نیکیوں کو ادا کرنے کی طرف ہمیں توجہ دلائی ہے کہ کس طرح ان کو ادا کیا جائے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کی جائے اور اس میں خوشخبریاں بھی دی ہیں۔چند روایات پیش کرتا ہوں۔حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا گر بتائیے جو مجھے جنت میں لے جائے۔آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔نماز باجماعت پڑھو، زکوۃ دو اور رشتہ داروں سے صلہ رحمی اور حسن سلوک کرو۔(مسلم کتاب الايمان باب بيان الايمان الذي يدخله به الجنة) - تو پہلی شرط تو ایک مومن کے لئے یہی ہے کہ خدا کا کسی کو شریک نہ ٹھہرائے ، کام، کاروبار، ملازمت، بیوی، بچے، دنیاوی تعلقات اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق میں روک نہ بنیں۔اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے میں روک نہ بنیں۔اور اس کے بعد سب سے اہم حکم یہ ہے کہ نماز پڑھو جیسا کہ پہلے بھی میں بتا آیا ہوں کہ اس طرف بہت توجہ دو۔زکوۃ دو، مالی قربانی کرو تا کہ جماعتی ضروریات کا بھی خیال رکھا جا سکے اور غرباء کی بھی مدد ہو سکے۔اس کے لئے جماعت میں چندے کا نظام بھی قائم ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے لے کر آج تک خلفاء مختلف وقتوں میں چندوں کی طرف توجہ