خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 651 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 651

$2004 651 خطبات مسرور جیسے منصوبے بن چکے ہیں۔تو انہوں نے کہا ہاں ہاں ماضی میں بھی بہت منصو بے بنے ہیں۔میں نے کہا مجھے پہلے یہ بتائیں کہ ماضی کے جو منصوبے ہیں، ان منصوبوں کا کیا انجام ہوا۔کتنے ملکوں کی یا کتنے لوگوں کی آپ نے اس منصوبے کے تحت غربت ختم کی ہے۔کیا یہ منصوبے سنجیدگی سے چلے؟ تو کہنے لگے بڑا مشکل سوال ہے۔ان کی اہلیہ بھی ساتھ تھیں۔وہ بھی ہنس پڑیں کہ اب جواب دو اس کا۔ان کی اہلیہ نے ذاتی طور پر خود، این جی او (N۔G۔O) بنائی ہوئی ہے اس کے ذریعہ افریقن ممالک میں جا کر مدد کرتی ہیں۔بعض بڑے دور دراز علاقوں میں بھی گئی ہوئی ہیں۔میں نے جاکے جب پتہ کیا تو پتہ لگا کہ وہاں وہ واقعی آتی ہیں۔تو بہر حال اگر ذاتی طور پر کوئی سنجیدگی بھی ہے تو کیونکہ ملکوں کی تنظیم کے ساتھ یہ سارا کاروبار وابستہ ہے اس لئے وہ خود کچھ نہیں کر سکتا۔تو یہ دنیاوی تنظیمیں جو ہیں اپنے مفاد کی خاطر خدمت بھی کرتی ہیں ، نہ کہ نیکی کے لئے ، نہ کہ نیکی میں آگے بڑھنے کے لئے۔جیسا کہ میں نے کہا بعض لوگ ان میں انفرادی طور پر نیک بھی ہو سکتے ہیں۔لیکن کچھ کر نہیں سکتے۔اور ان تنظیموں کے پروگرام بھی اس وقت تک چلتے ہیں جب تک اپنے مفاد ہوں۔نہیں تو اگر مفاد نہ ہو اور خدمت کا جذبہ ہو تو ان ملکوں میں بے انتہا کھانے پینے کی چیزیں ضائع ہوتی ہیں۔ان کو ضائع کرنے کی بجائے ان غریب ملکوں میں بھیجنے کا انتظام کر دیں تو بہت سوں کے پیٹ بھر سکتے ہیں۔انسانیت کی بے انتہا خدمت ہو سکتی ہے۔لیکن مقصد ان کے یہ نہیں ہیں۔کیونکہ نیکیاں کر کے اللہ کی رضا تو مقصد نہیں ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے بھی اس کی بڑی تفسیر فرمائی ہے۔اس میں سے کچھ خلاصہ بیان کرتا ہوں۔یہ حکم جو ہے کہ ﴿فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ اس کے بارے میں بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ در حقیقت اسلام اور دوسرے مذاہب میں جہاں اور بہت سے امتیازات ہیں جو اس کی فضیلت کو نمایاں طور پر ثابت کرتے ہیں وہاں ایک فرق یہ بھی ہے کہ دوسرے مذاہب صرف نیکی کی