خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 60 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 60

60 خطبات مسرور کرنے کو تیار ہو جاؤ۔بہتری اسی میں ہے، ورنہ اختیار ہے۔ہمارا کام صرف نصیحت کرنا ہے۔“ $2004 (ملفوظات۔جلد اول صفحه نمبر ١٩٦،١٩٥ الحكم ۱۲ مئى (۱۸۹۹ء حضرت اویس قرنی کا واقعہ بیان ہوا ہے اس کے بارہ میں تھوڑی سی وضاحت کر دوں۔کہ بعض لوگ اس واقعہ کو غلط رنگ میں اپنی اپنی دلیل دینے لگ جاتے ہیں کہ اگر کہو کہ فلاں دینی کام ہے یا جماعتی ضرورت ہے کچھ وقت دے دو تو والدین کی خدمت کا بہانہ کرنے لگ جاتے ہیں۔حالانکہ اپنے دنیاوی کام اسی طرح کر رہے ہوتے ہیں۔کئی کئی دن والدین کی خبر بھی نہیں لے رہے ہوتے۔اور جب اپنی دنیاوی ضروریات سے فارغ ہو کر کچھ وقت مل جاتا ہے تو پھر والدہ کے پاس بیٹھ کر اپنے خیال میں خدمت انجام دے رہے ہوتے ہیں۔تو یہاں تو یہ ذکر ہے کہ اویس قرنی تو ہر وقت اپنی والدہ کی خدمت میں لگے رہتے تھے۔ہر وقت اسی خدمت پر کمر بستہ ہوتے تھے۔ان کو تو دنیاوی کاموں کی ہوش ہی نہیں تھا کیونکہ ان کے تو اونٹ وغیرہ چرانے اور دوسرے جانور جو تھے ان کا کام بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے لیا ہوا تھا۔جیسا کہ بیان ہوا ہے کہ میرے کام تو فرشتے کرتے ہیں۔تو یہ نہیں کہ دنیاوی کاموں کے لئے تو ہمارے پاس وقت ہوا اور جب دین کے کام کے لئے ضرورت ہو تو اویس قرنی کی مثالیں دینا شروع کر دیں۔پھر ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو ماں کی محبت اور خدمت کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن جب اپنا مفاد ہو تو ماں باپ سے سخت کلامی سے پیش آتے ہیں۔اور ماؤں سے غصے کا اظہار بھی کر رہے ہوتے ہیں۔ان کو بعض دفعہ برا بھلا بھی کہہ رہے ہوتے ہیں۔حالانکہ ماں باپ کے آگے تو اونچی آواز میں بولنا بھی منع ہے۔تو بعض دفعہ دینی خدمت نہ کرنے یا بیوی بچوں کے حقوق ادا نہ کرنے کے لئے ماں کی یا باپ کی خدمت کا بہانہ بنایا جاتا ہے۔اس لئے ہر وقت اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہئے کہ ماں باپ کی خدمت کے نام پر کہیں نفس دھو کہ تو نہیں دے رہا اور دینی خدمت سے آدمی محروم نہ ہورہا ہو۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ایک شخص کو فر مایا کہ: