خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 644 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 644

خطبات مسرور $2004 644 تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: وَلِكُلّ وَجْهَةٌ هُوَ مُوَلَّيْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ أَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يَأْتِ بِكُمُ اللَّهُ جَمِيْعًا۔إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾ (سورة البقره آیت : 149) یہ آیت جوئیں نے تلاوت کی ہے اس کا ترجمہ یہ ہے۔اور ہر ایک کے لئے ایک مطمح نظر ہے جس کی طرف وہ منہ پھیرتا ہے۔پس نیکیوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاؤ، تم جہاں کہیں بھی ہو گے اللہ تمہیں اکٹھا کر کے لے آئے گا۔یقینا اللہ ہر ایک چیز پر جسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہر مسلمان پر یہ فرض قرار دیا ہے کہ وہ نیکیوں پر قائم ہو اور نہ صرف نیکیوں پر قائم ہو بلکہ ان میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش بھی کرے۔تو جب آپس میں ایمان لانے والوں کو نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا حکم ہے تو پھر یہ کس طرح برداشت ہوسکتا ہے کہ غیروں کے مقابلے میں کسی بھی قسم کی کوئی بھی نیکی ان کی کم ہو اور وہ دوسروں سے آگے نکلنے کی کوشش نہ کریں۔کیونکہ نیکی کرنا اور نیک اعمال بجالا نا تو صرف مومن کا ہی خاصہ ہے اور ہونا بھی چاہئے کیونکہ وہ اللہ کے نزدیک بہترین مخلوق ہے۔جیسا کہ فرماتا ہے ﴿إِنَّ الَّذِيْنَ آمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ أُوْلَئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ ﴾ (البينة: 8) یقیناً وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال بجالائے یہی ہیں وہ جو بہترین مخلوق ہیں۔کیونکہ اب اسلام قبول کر کے اور ان لوگوں میں شامل ہو کر جن میں شامل ہونے کی ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نصیحت فرمائی تھی، حکم دیا