خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 639
$2004 639 خطبات مسرور اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوار شخص پیدل کو سلام کرے اور پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں۔(بخاری کتاب الاستئذان باب يسلم الراكب على الماشي تو یہ طریق بھی عاجزی پیدا کرنے اور تکبر کو دور کرنے لئے سکھایا گیا ہے۔ایک روایت میں آتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ تم میں سے جب کوئی اپنے بھائی سے ملے تو اسے سلام کرے اور اگر ان دونوں کے درمیان کوئی درخت یا دیوار یا چٹان حائل ہو جائے۔پھر دوبارہ اس سے ملے تو دوبارہ سلام کرے۔یعنی ایک دفعہ سلام کافی نہیں ہے۔پھر ملے پھر بے شک سلام کرے۔یعنی سلام کو اتنا زیادہ رواج دو کہ تمہارے اندر کی ساری کدورتیں ، دل کے تمام میل صاف ہو جائیں۔پھر ایک روایت میں آتا ہے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس کے قریب سے گزرے جس میں مسلمان اور مشرک بت پرست اور یہودی سب بیٹھے ہوئے تھے۔تمام کی مشترکہ مجلس تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سلام کیا۔(بخاری کتاب الاستئذان باب التسليم فى يجلس في اختطلاط من المسلمين و المشركين تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو بلا استثناء اس مجلس کے ہر فرد کو سلام کیا۔یہ نہیں کہا کہ مسلمانوں کو سلام ہو۔جبکہ آج کا ملاں کہتا ہے کہ فلاں کو سلام کرو اور فلاں کو سلام نہ کرو۔آپ لوگ بھی یہاں بلا جھجک اس معاشرے میں بھی لوگوں کو سلام کیا کریں۔پھر اس کا مطلب بتایا کریں۔آخر ان کا سلام بھی تو آپ کرتے ہیں۔آپ کو بھی سلام کرنا چاہئے بعض قریبی تو خیر جانتے ہیں، سلام بھی کر لیتے ہیں۔کل جب میں آیا ہوں تو بڑی اچھی بات لگی بعضوں نے جو یہاں کے مقامی تھے السلام علیکم بھی کہا۔تو ہر ایک کو بتانا چاہئے ، اس کا مطلب بھی بتا ئیں تا کہ اسلام کی تعلیم کی جو خوبیاں ہیں وہ بھی لوگوں کو پتہ لگیں۔اور اس سے آپ کی دعوت الی اللہ کے اور راستے بھی کھلیں گے۔اس سلسلے میں حضرت اقدس مسیح موعود کے طریق کار کے بارے میں بتا تا ہوں۔قاضی محمد