خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 638 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 638

$2004 638 خطبات مسرور میں کہنا چاہتا ہوں، ان کو بھی سبق لینا چاہئے کہ ملنے کے لئے آنے والے کو اچھی طرح خوش آمدید کہنا چاہئے۔خوش آمدید کہیں ، ان سے ملیں، مصافحہ کریں، ہر آنے والے کی بات کو غور سے سنیں۔بعض لکھنے والے مجھے خط لکھ دیتے ہیں کہ ہمارے بعض معاملات ہیں کہ آپ سے ملنا تو شاید آسان ہولیکن ہمارے فلاں عہد یدار سے ملنا بڑا مشکل ہے۔تو ایسے عہدیداران کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اسوہ حسنہ کو یا درکھنا چاہئے ، ملنے والے سے اتنے آرام سے ملیں کہ اس کی تسلی ہو اور وہ خود تسلی پا کر آپ سے الگ ہو۔پھر دفتروں میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ہر آنے والے کو کرسی سے اٹھ کر ملنا چاہئے ، مصافحہ کرنا چاہئے۔اس سے آپ کی عاجزی کا اظہار ہوتا ہے اور یہی عاجزی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھائی ہے۔دیکھیں آپ بیٹھتے وقت بھی کتنی احتیاط کیا کرتے تھے۔مصافحے کے بارے میں یہاں ایک وضاحت کر دوں یہاں مغرب میں ہمارے معاشرے سے آئی ہوئی بعض خواتین کو بھی مردوں کے کہنے کی وجہ سے یا خود ہی کسی کمپلیکس (Complex) کی وجہ سے مردوں سے مصافحہ کرنے کی عادت ہوگئی ہے اور بڑے آرام سے عورتیں مردوں سے مصافحہ کر لیتی ہیں۔مردوں اور عورتوں دونوں کو اس سے بچنا چاہئے۔اگر آرام دوسرے کو سمجھا دیں کہ ہمارا مذ ہب اس کی اجازت نہیں دیتا تو لوگ سمجھ جاتے ہیں۔نہ عورت مرد کو سلام کرتی ہے تو پھر نہ مرد عورت کو سلام کرے گا۔دوسرے بعض معاشروں میں بھی تو مصافحے نہ کرنے کا رواج ہے وہ بھی تو نہیں کرتے۔ہندو بھی ہاتھ جوڑ کر یوں کھڑے ہو جاتے ہیں۔یہ وہاں ان کا سلام کا رواج ہے۔اور معاشروں میں بھی اس طرح مختلف طریقے ہیں۔اس لئے شرمانے کی ضرورت نہیں ہے۔کسی قسم کے کمپلیکس میں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔مذہب بہر حال مقدم ہونا چاہئے اور اللہ تعالیٰ کے احکامات پر بہر حال زیادہ سے زیادہ عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ حدیث ہے کہ رسول