خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 637
$2004 637 مسرور پاکستان میں بھی عموماً لوگ شریف ہیں جس طرح حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ نے فرمایا تھا کہ گونگی شرافت ہے۔کچھ کہہ نہیں سکتے۔اندر سے وہ بھی مولوی سے بڑے سخت تنگ ہیں۔تھانیدار والا ہی حساب ہے کہ جب ایک دفعہ ایک احمدی پر مقدمہ ہو گیا۔سلام کہنے پر مولوی نے پرچہ درج کروایا۔جب تھانیدار نے جرم دیکھا تو اس نے اس کو کہا کہ کیا اس نے تمہیں سلام کیا ہے؟ اس نے کہا کہ یہ جرم ہے اس نے کیوں مجھے سلام کیا ہے۔اس نے کہا ٹھیک ہے اگر یہ جرم ہے اس احمدی کا تو وہ آئندہ سے تمہیں لعنت بھیجا کرے گا۔احمدی لعنت کبھی نہیں بھیجتا۔دوست ہو یادشمن ہو احمدی نے تو ہمیشہ سلامتی کا نعرہ ہی لگانا ہے۔ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت ایوب بن بشیر تقبیلہ عنزہ کے ایک شخص کے حوالے سے بیان کرتے ہیں۔اس شخص نے حضرت ابوذرغفاری سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوقت ملاقات آپ لوگوں سے مصافحہ کیا کرتے تھے؟ اس پر حضرت ابوذر نے بتایا کہ میں جب کبھی بھی حضور سے ملا، مصافحہ کیا ہے۔بلکہ ایک مرتبہ حضور نے مجھے بلا بھیجا، میں اس وقت گھر پر نہیں تھا۔جب میں گھر آیا اور مجھے بتایا گیا تو میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوا، حضور اس وقت بستر پر تھے، حضور نے مجھے اپنے گلے کے ساتھ لگا لیا اور معانقہ کیا۔اس خوش نصیبی کے کیا کہنے۔(ابوداؤد كتاب الادب باب في المعانقه پھر ایک روایت میں آتا ہے حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ جب کوئی شخص آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ملتا اور آپ سے گفتگو کرتا ، آپ اس سے اپنا چہرہ مبارک نہ ہٹاتے۔یہاں تک کہ وہ خود واپس چلا جائے اور جب کوئی آپ سے مصافحہ کرتا تو آپ اپنے ہاتھ اس کے ہاتھ سے نہ چھڑاتے یہاں تک کہ وہ خود ہاتھ چھڑا لے۔اور کبھی آپ کو اپنے ساتھ بیٹھنے والے سے آگے گھٹنے نکال کر بیٹھے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔(ابن ماجه کتاب الادب باب اکرام الرجل جليسه اس سے جہاں ہم سب کے لئے نصیحت ہے، خاص طور پر جماعت کے عہدیداران کو بھی