خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 636
$2004 636 خطبات مسرور کی ضرورت ہی ہے کہ نمازیں بھی پڑھو، اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، بلکہ تہجد کی نماز پڑھنے کی عادت ڈالو۔جب اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال کر اس وقت تہجد کی نماز پڑھنے کے لئے اٹھو گے تو پھر دل بھی صاف ہوگا۔خدا کی خشیت بھی پیدا ہوگی اور جب خدا کی خشیت پیدا ہو گی تو اس کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک اور سلامتی کی دعا بھیجنے کی طرف اور توجہ پیدا ہوگی۔اور نہ صرف اگلے جہان میں بلکہ اس جہان میں بھی تمہیں سلام بھیجنے کا فہم حاصل ہو رہا ہوگا۔بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جن سے جان پہچان ہے صرف انہیں کو سلام کرنا چاہئے۔مسلمان معاشرے میں تو ہر راہ چلتے کو سلام کرنا چاہئے۔جیسا کہ ایک روایت میں آتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک آدمی نے پوچھا۔اسلام کا کون سا کام بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا غریبوں، مسکینوں کو کھانا کھلانا اور ہر مسلمان کو سلام کرنا، چاہے تو اسے پہچانتا ہویا نہ پہچانتا ہو۔تو جیسا کہ میں نے کہا کہ مسلمان معاشرے میں سلام کو رواج دینا چاہئے۔پاکستان میں تو ہمارے سلام کہنے پر پابندی ہے، بہت بڑا جرم ہے۔بہر حال ایک احمدی کے دل سے نکلی ہوئی سلامتی کی دعا ئیں اگر یہ لوگ نہیں لینا چاہتے تو نہ لیں اور تبھی تو یہ ان کا حال ہو رہا ہے۔لیکن جہاں احمدی اکٹھے ہوں وہاں تو سلام کو رواج دیں۔خاص طور پر ربوہ، قادیان میں۔اور بعض اور شہروں میں بھی اکٹھی احمدی آبادیاں ہیں ایک دوسرے کو سلام کرنے کا رواج دینا چاہئے۔میں نے پہلے بھی ایک دفعہ ربوہ کے بچوں کو کہا تھا کہ اگر بچے یاد سے اس کو رواج دیں گے تو بڑوں کو بھی عادت پڑ جائے گی۔پھر اسی طرح واقفین نو بچے ہیں۔ہمارے جامعہ نئے کھل رہے ہیں ان کے طلباء ہیں اگر یہ سب اس کو رواج دینا شروع کریں اور ان کی یہ ایک انفرادیت بن جائے کہ یہ سلام کہنے والے ہیں تو ہر طرف سلام کا رواج بڑی آسانی سے پیدا ہوسکتا ہے اور ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔بعض اور دوسرے شہروں میں کسی دوسرے کو سلام کر کے پاکستان میں قانون ہے کہ مجرم نہ بن جائیں۔احمدی کا تو چہرے سے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ یہ احمدی ہے۔اس لئے فکر کی یا ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔اور مولوی ہمارے اندر ویسے ہی پہچانا جاتا ہے۔