خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 635 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 635

635 $2004 خطبات مسرور جب لوگ سوئے ہوئے ہوں۔اگر تم ایسا کرو گے تو سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔(ترمذى ابو اب صفة القيمة) اس حدیث میں جن باتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ان میں سے تین تو حقوق العباد سے تعلق رکھتی ہیں جو میں نے پہلے حدیث پڑھی تھی یہ اس کی مزید وضاحت ہے۔یعنی سلام کے رواج سے ایک دوسرے کے لئے نرم جذبات پیدا ہوں گے اور نرم جذبات کے پیدا ہونے سے ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ پیدا ہوگی۔دوسرے یہ فرمایا کہ ضرورت مند کو کھانا کھلاؤ۔لوگوں کی ضرورتوں کا خیال رکھو۔اگر کوئی ضرورت مند نہیں ملتا، یہاں بعض اوقات ان ملکوں میں کوئی ضرورت مند نہیں ملتا۔تو جماعت میں صدقات کا نظام موجود ہے۔یہاں سے دوسرے ملکوں میں بھی مدد کی جاتی ہے۔بے انتہا غریبوں کی مدد کی جاتی ہے تم بھی اس میں داخل ہو جاؤ تو براہ راست سلام تو نہیں پہنچا ر ہے لیکن ان غریبوں کے لئے سلامتی کے سامان پیدا کر رہے ہو۔ان کی ضروریات کا خیال رکھ رہے ہو اور ان سے غائبانہ دعائیں بھی لے رہے ہو۔یہ صرف محبت اور ہمدردی کے اس جذبے کے تحت کر رہے ہیں کہ ہمارے بھائی بند ہیں اور ضرورت مند ہیں۔پھر فرمایا کہ صلہ رحمی کرو۔اپنے رشتہ داروں کا ، اپنے قریبیوں کا ، اپنے عزیزوں کا ایک دوسرے کے سسرالی قریبیوں کا ، عزیزوں کا خیال رکھو، کیونکہ ایک دوسرے کے سسرال کے جو رحمی رشتہ دار ہیں وہ بھی قریبی عزیز ہی ہیں۔ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچاؤ۔تکلیف صرف یہی نہیں ہے کہ کوئی جسمانی تکلیف نہیں پہنچائی یا کل کے گالم گلوچ نہیں کی بلکہ اگر خاوند اور بیوی ایک دوسرے کے جذبات کا اور ایک دوسرے کے عزیزوں کے جذبات کا خیال نہیں رکھتے تو وہ بھی سلامتی پھیلانے والے نہیں ہیں۔سلامتی تو ایک دعا ہے اور دعائیں جذبات کو ٹھیس پہنچا کر نہیں دی جاتیں۔فرمایا کہ یہ سب باتیں سلامتی سے تعلق رکھتی ہیں۔اس لئے تم بھی ان باتوں کو کر کے سلامتی کے ساتھ ہی جنت میں داخل ہو گے۔اور پھر آخر میں حق اللہ کی طرف بھی توجہ دلا دی۔کہ اللہ کا حق کیا ہے؟ بلکہ وہ بھی بندوں