خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 629 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 629

629 $2004 خطبات مسرور وہی قباحتیں پیدا ہو سکتی ہیں جس طرح مردوں میں پیدا ہوسکتی ہیں بلکہ بعض حالات میں عورتوں کے لئے زیادہ قباحتیں پیدا ہو جایا کرتی ہیں۔اس لئے سلام کر کے ، اعلان کر کے اجازت لے کر گھر کے جس فرد کے پاس بھی آئی ہوں وہاں جائیں تا کہ تمام گھر والوں کو بھی پتہ ہو کہ فلاں اس وقت ہمارے گھر میں موجود ہے۔پھر پردہ دار عورت کے لئے اور بھی آسانی پیدا ہو جاتی ہے کہ اس اعلان کی وجہ سے جہاں وہ گھر میں موجود ہوگی وہاں مرد آسانی سے آ جا نہیں سکیں گے یا آنے میں احتیاط کریں گے۔پردہ کروا کر آئیں گے۔تو اس طرح اور بھی بظاہر چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جن میں صرف سلام کہنے سے فائدہ ہوتا ہے۔پھر یہ بھی فرمایا کہ گھر میں کوئی نہ ہو تو یہ نہیں کہ گھر یا کمرہ کھلا دیکھ کر وہاں جا کے بیٹھ جاؤ بلکہ اگر گھر میں کوئی نہیں تو تین دفعہ سلام کہو اور جب تین دفعہ سلام کہ دیا اور کسی نے نہیں سنا تو واپس چلے جاؤ۔اور پھر یہ کہ گھر میں اجازت ملے تو داخل ہونا ہے۔اگر تم نے تین دفعہ سلام کیا اور اجازت نہیں ملی یا گھر میں کوئی نہیں ہے یا گھر والا پسند نہیں کرتا کہ تم اس وقت اس کے گھر آؤ تو واپس چلے جاؤ۔اگر کوئی گھر والا موجود ہو اور کھل کر یہ کہہ بھی دے کہ اس وقت مجبوری کی وجہ سے میں مل نہیں سکتا تو پھر برا نہ مناؤ بلکہ جو کہا گیا ہے وہ کرو۔اور وہ یہی کہا گیا ہے کہ واپس چلے جاؤ اس لئے بہتری اسی میں ہے کہ واپس چلے جاؤ۔سلام تو اس لئے پھیلا رہے ہو کہ سلامتی کا پیغام پھیلے امن کا پیغام پھیلے، آپس میں محبت اور اخوت قائم ہو، تمہارے اندر پاکیزگی قائم ہو تو پھر اگر کوئی گھر والا معذرت کر دے یا ملنا نہ چاہے تو اس کے باوجود ملنے والا برا نہ منائے۔اور گھر والے کی بات مان لے۔تو یہ ہے اسلامی معاشرہ جو سلام کو رواج دے کر قائم ہوگا۔ایک حدیث میں آتا ہے۔حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی تین دفعہ اجازت مانگ لے اور اسے اجازت نہ دی جائے تو اسے چاہئے کہ وہ واپس لوٹ جائے۔(بخاری کتاب الاستئذان باب التسليم والاستئذان (ثلاثا) یہاں یہ کہیں نہیں کہا گیا کہ اتنی دور سے آئے ہوتے ہو گھر والے نے تمہیں واپس لوٹا دیا تو اس نے غلط کیا، کم از کم ایک دومنٹ بٹھا کر پانی ہی پوچھ لیتا۔بلکہ یہاں آنے والے کو کہا ہے کہ اگر