خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 624
خطبات مسرور $2004 624 تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّى تَسْتَأْنِسُوْا وَتُسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهَا۔ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ۔فَإِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِيْهَا أَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْهَا حَتَّى يُؤْذَنَ لَكُمْ وَإِنْ قِيْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ أَزْكَى لَكُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيمٌ (سورة النور آیت 28-29 اس کا ترجمہ یہ ہے۔اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو۔یہاں تک کہ تم اجازت لے لو اور ان کے رہنے والوں پر سلام بھیج لو۔یہ تمہارے لئے بہتر ہے تا کہ تم نصیحت پکڑو۔اور اگر تم ان گھروں میں کسی کو نہ پاؤ تو ان میں داخل نہ ہو یہاں تک کہ تمہیں اس کی اجازت دی جائے۔اور اگر تمہیں کہا جائے واپس چلے جاؤ تو واپس چلے جایا کرو۔تمہارے لئے یہ بہت زیادہ پاکیزگی کا موجب ہے اور اللہ سے جو تم کرتے ہو خوب جانتا ہے۔ہر معاشرے میں ملنے جلنے کے کچھ آداب ہوتے ہیں، اچھی طرح ملنے والے کو اچھے اخلاق کا مالک سمجھا جاتا ہے، اچھے اخلاق والے جب ملتے ہیں تو ایک دوسرے کو دیکھ کر چہرے پر شگفتگی اور مسکراہٹ لاتے ہیں۔ایک دوسرے کو نہ پہچانتے ہوں تب بھی چہرے پر نرمی ہوتی ہے۔اور جو اچھی طرح سے نہ ملے عموماً اس کے خلاف ناراضگی کا اظہار کیا جاتا ہے کہ یہ بڑا بداخلاق ہے،