خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 620
$2004 620 خطبات مسرور جھگڑوں کو چپکا دینے کے لئے یہی کافی دلیل ہے کہ صحابہ کرام میں باہم پھوٹ ، ہاں با ہم کسی قسم کی پھوٹ اور عداوت نہ تھی کیونکہ ان کی ترقیاں اور کامیابیاں اس امر پر دلالت کرتی رہی ہیں کہ وہ باہم ایک تھے اور کچھ بھی کسی سے عداوت نہ تھی۔ناسمجھ مخالفوں نے کہا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلایا گیا۔مگر میں کہتا ہوں کہ یہ میچ نہیں ہے۔اصل بات یہ ہے کہ دل کی نالیاں اطاعت کے پانی سے لبریز ہو کر بہن نکلی تھیں۔یہ اس اطاعت اور اتحادکا نتیجہ تھا کہ انہوں نے دوسرے دلوں کو تسخیر کرلیا۔آپ ( پیغمبر خدا ) کی شکل و صورت جس پر خدا پر بھروسہ کرنے کا نور چڑھا ہوا تھا اور جو جلالی اور جمالی رنگوں کو لئے ہوئے تھی۔اس میں ایک ہی کشش اور قوت تھی کہ وہ بے اختیار دلوں کو کھینچے لیتے تھے اور پھر آپ کی جماعت نے اطاعت رسول کا وہ نمونہ دکھایا اور اس کی استقامت ایسی فوق الکرامت ثابت ہوئی کہ جو ان کو دیکھتا تھا وہ بے اختیار ہو کر ان کی طرف چلا آتا تھا۔غرض صحابہ کی سی حالت اور وحدت کی ضرورت اب بھی ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو جو مسیح موعود کے ہاتھ سے تیار ہو رہی ہے اُسی جماعت کے ساتھ شامل کیا ہے جو رسول اللہ ﷺ نے تیار کی تھی۔اور چونکہ جماعت کی ترقی ایسے ہی لوگوں کے نمونوں سے ہوتی ہے۔اس لئے تم جو سیح موعود کی جماعت کہلا کر صحابہ کی جماعت سے ملنے کی آرزور کھتے ہو، اپنے اندر صحابہ کا رنگ پیدا کرو۔اطاعت ہو تو ویسی ہو، باہم محبت و اخوت ہو تو ویسی ہو۔غرض ہر رنگ میں ہر صورت میں تم وہی شکل اختیار کرو جوصحابہ کی تھی۔(تفسیر حضرت مسیح موعود عليه السلام جلد دوم صفحه 246 تا 248 زیر آیت سورة النساء :60) پس جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا پہلوں سے ملنے کے لئے صحابہ کی طرح اطاعت کا نمونہ بھی دکھانا ہوگا۔اور جیسا کہ پہلے بھی آپ سن آئے ہیں۔اطاعت کے لئے صبر اور قربانی کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے اس لئے اپنے اندر یہ خصوصیات بھی پیدا کریں۔اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے اور ہم سب اطاعت و فرمانبرداری کے اعلیٰ نمونے قائم کرنے والے ہوں۔