خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 617
$2004 617 مسرور جب میں نے خرید کردہ عمارات کو بھی 100 مساجد کے زمرے میں شامل کر لیا ہے تو پھر آپ لوگ اور مزید کیا کہنا چاہتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں وہ اس پیسے سے خریدی گئی ہیں، وہ مساجد میں شمار ہیں۔پھر خط لکھتے وقت جو متعلقہ عہد یداران ہیں ان کے متعلق بڑے سخت الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔مساجد کی خرید کی انتظامیہ کے بارے میں بھی سخت الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں، یہ طریق غلط ہے۔یہ بھی ایک طرح سے اطاعت سے باہر نکلنے والی بات ہے، بے صبری کا مظاہرہ ہے۔اس لئے اس سے بچیں۔آپ لوگوں کا کام ہے کہ 100 مساجد بنانے کا جو منصو بہ دیا گیا ہے اس پر لگے رہیں ، اس پر عمل کریں۔دعا سے اللہ تعالیٰ کی مدد چاہتے رہیں، انشاء اللہ تعالیٰ اللہ تعالی مددفرمائے گا۔اب کام میں کچھ تیزی بھی پیدا ہوئی ہے۔انشاء اللہ یہ مساجد مکمل بھی ہو جائیں گی اور جب بننا شروع ہوگئی ہیں تو دیکھا دیکھی رفتار میں بھی تیزی آرہی ہے۔بہتوں کو بڑی تیزی سے خیال آرہا ہے کہ ہمیں اپنے علاقے میں مسجد بنانی چاہئے اور کوشش بھی کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ مزید برکت ڈالے۔دوسری بات یہ ہے کہ بعض کام چاہے وہ نیکی اور خدمت خلق کے کام ہی ہوں اگر نظام جماعت سے ٹکر لے کر کئے جارہے ہیں تو نظام جماعت اس سلسلے میں کوئی مدد نہیں کرتا۔نہ ہی خلیفہ وقت سے یہ امید رکھنی چاہئے کہ وہ نظام سے ہٹ کر چلنے والے کاموں پر خوشنودی کا اظہار کرے گا۔نظام کی حفاظت تو خلیفہ کا سب سے پہلا فرض ہے۔کیونکہ دو متوازی نظام چلا کر تو کامیابیاں نہیں ہوا کرتیں۔مثلاً بعض شرائط پوری کئے بغیر یہاں اس ملک میں عام طور پر ہومیو پیتھی کی پریکٹس کی اجازت نہیں ہے اس لئے جماعت بحیثیت جماعت اس کام میں ہاتھ نہیں ڈال رہی۔اور اگر کوئی یہ کام کرنا چاہتا ہے یا کر رہا ہے اور خدمت خلق کے جذبے سے کر رہا ہے تو کرے۔لیکن جماعت اس میں کبھی ملوث نہیں ہوگی۔اگر کسی کے خدمت خلق کے کام پر میں اس کو تعریفی خط لکھ دیتا ہوں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کو کوئی جماعتی حیثیت حاصل ہو گئی ہے اور وہ امیر جماعت کو بھی پس پشت ڈال دے اور اس سے بھی ٹکر لینی شروع کر دے۔مجھے یہاں فی الحال نام لینے کی ضرورت نہیں ہے،