خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 57
$2004 57 خطبات مسرور کرتا ہوں حضرت اقدس نے فرمایا کہ۔توجہ سے دعا کرو باپ کی دعا بیٹے کے واسطے اور بیٹے کی دعا باپ کے واسطے قبول ہوا کرتی ہے اگر آپ بھی توجہ سے دعا کریں تو اس وقت ہماری دعا کا بھی اثر ہوگا۔“ (ملفوظات جلد۔دوم۔صفحه نمبر ٥٠٢ البدر ٢١ نومبر ۱۹۰۲ء) بٹالہ کے سفر کے دوران حضرت اقدس، شیخ عبدالرحمن صاحب قادیانی سے ان کے والد صاحب کے حالات دریافت فرماتے رہے اور نصیحت فرمائی کہ : ان کے حق میں دعا کیا کرو ہر طرح اور حتی الوسع والدین کی دلجوئی کرنی چاہیے اور ان کو پہلے سے ہزار چند زیادہ اخلاق اور اپنا پاکیزہ نمونہ دکھلا کر اسلام کی صداقت کا قائل کرو۔اخلاقی نمونہ ایسا معجزہ ہے کہ جس کی دوسرے معجزے برابری نہیں کر سکتے سچے اسلام کا یہ معیار ہے کہ اس سے انسان اعلیٰ درجے کے اخلاق پر ہو جاتا ہے اور وہ ایک ممیزی شخص ہوتا ہے شاید خدا تعالیٰ تمہارے ذریعہ ان کے دل میں اسلام کی محبت ڈال دے۔اسلام والدین کی خدمت سے نہیں روکتا۔دنیوی امور جن سے دین کا حرج نہیں ہوتا ان کی ہر طرح سے پوری فرمانبرداری کرنی چاہئے۔دل و جاں سے ان کی خدمت بجالاؤ۔“ ( ملفوظات جلد دوم صفحه ٢٩٤ البدر ١٤ / نومبر ١٩٠٢ء) پھر فرمایا کہ: صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی بعض ایسے مشکلات آگئے تھے کہ دینی مجبوریوں کی وجہ سے ان کی ان کے والدین سے نزاع ہو گئی تھی۔بہر حال تم اپنی طرف سے ان کی خیریت اور خبر گیری کے واسطے ہر وقت تیار رہو جب کوئی موقع ملے اسے ہاتھ سے نہ دو۔تمہاری نیت کا ثواب تم کومل رہے گا۔اگر محض دین کی وجہ سے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم کرنے کے واسطے والدین سے الگ ہونا پڑا ہے تو یہ ایک مجبوری ہے۔اصلاح کو مدنظر رکھو اور نیت کی صحت کا لحاظ رکھو اور ان کے حق میں دعا کرتے رہو۔یہ معاملہ کوئی آج نیا نہیں پیش آیا حضرت ابراہیم کو بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا۔بہر حال خدا کا حق مقدم ہے۔پس خدا کو مقدم کرو اور اپنی طرف سے والدین کے حقوق ادا کرنے کی کوشش میں لگے رہو اور