خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 601 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 601

601 $2004 خطبات مسرور اچھے بھی ہو جاتے ہیں فرمایا ”میں حقہ کو نہ منع کرتا ہوں اور نہ جائز قرار دیتا ہوں مگر ان صورتوں میں کہ انسان کو کوئی مجبوری ہو۔یہ ایک لغو چیز ہے اور اس سے انسان کو پر ہیز کرنا چاہئے“۔آپ فرماتے ہیں ، بہت قابل فکر یہ ارشاد ہے، کہ ہر ایک زانی ، فاسق ، شرابی ، خونی، چور، قمار باز ، خائن ، مرتشی، غاصب، ظالم، دروغ گو ( یعنی جھوٹ بولنے والا جعلساز اور ان کا ہم نشیں (ان میں بیٹھنے والا بھی ) اور اپنے بھائیوں اور بہنوں پر تہمتیں لگانے والا جو اپنے افعال شنیعہ سے تو بہ نہیں کرتا اور خراب مجلسوں کو نہیں چھوڑتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے“۔(کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحه 19) تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تمام بڑے بڑے گناہ کرنے والوں، لوگوں کے حق مارنے والوں ، لوگوں پر ظلم کرنے والوں، جھوٹ بولنے والوں، دھوکہ دینے والوں، لوگوں پر الزام تراشیاں کرنے والوں، بری مجلس میں بیٹھنے والوں کو ایک ہی زمرے میں شمار کیا ہے۔اور فرمایا ہے کہ ایسے لوگوں کا پھر مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔پس ہر ایک کو اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ ایمان کے دعوے کے بعد ہم میں کہیں کوئی برائی تو نہیں۔یا ہم ایسی برائیاں کرنے والوں کے ساتھ بیٹھنے والوں میں سے تو نہیں۔ہماری مجالس پاکیزہ ہیں ، ہمارے اعمال ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف لے جانے والے ہیں، ہم اس کے حکموں پر عمل کرنے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق دے۔آج سے جماعت احمدیہ جرمنی کا جلسہ سالانہ شروع ہو گیا ہے۔ان جلسوں کا مقصد بھی اپنے روحانی معیار کو بلند کرنا اور اپنے اندر نیکیوں کو قائم کرنا ہے۔پس ان دنوں میں ایک تو دعاؤں پر زور دیں۔اپنے لئے بھی، اپنے ماحول کے لئے بھی ، اپنے عزیزوں کے لئے بھی ، اپنے بچوں کے لئے بھی ، اور جماعت کے لئے بھی بہت دعائیں کریں۔دوسرے ہر ایک اپنا جائزہ لیتا ر ہے کہ کیا کیا لغویات اس میں پائی جاتی ہیں۔کیونکہ ہر برائی لغو ہے یا ہر لغوحرکت یا بات گناہ ہے، اس کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔پھر اس جلسے کو جیسا کہ