خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 596 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 596

$2004 596 خطبات مسرور تک بات پہنچاؤ تا کہ اصلاح ہو جائے۔تو جب آپ اس طرح کہیں گے تو آپ کو خود اندازہ ہو جائے گا کہ یہ شخص صحیح نہیں کیونکہ وہ نہ خود بات آگے پہنچانے پر راضی ہوگا اور نہ آپ کو اجازت دے گا کہ آپ بات آگے پہنچائیں ایسے لوگوں کا کام صرف باتیں کرنا اور فتنہ پھیلانا ہوتا ہے اس لئے ایسے تعلقات لغو تعلقات ہیں ان سے بھی بچیں۔پھر فرمایا بعض دفعہ تمہارے جوش بھی لغو ہوتے ہیں۔کہیں سے اڑتی اڑتی بات اپنے یا اپنے کسی عزیز کے بارے میں سن لی اور فورا جوش میں آگئے اور جس کی طرف بات منسوب کی گئی ہے اس سے لڑنے مرنے پر آمادہ ہو گئے۔تو یہ تمام ایسی چیزیں ہیں جو لغویات ہیں۔مومن کا کام یہ ہے کہ ہمیشہ ڈرتے ڈرتے اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کرے اور ہمیشہ اس حکم پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے محفوظ رہیں۔زبان ایک ایسی چیز ہے جس کا اچھا استعمال سب کو آپ کا گرویدہ بنا سکتا ہے اور اس کا غلط استعمال دوست کو بھی دشمن بنا سکتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : ” ایک اور بات بھی ضروری ہے جو ہماری جماعت کو اختیار کرنی چاہئے اور وہ یہ ہے کہ زبان کو فضول گوئیوں سے پاک رکھا جاوے۔زبان وجود کی ڈیوڑھی ہے اور زبان کو پاک کرنے سے گویا خدا تعالیٰ وجود کی ڈیوڑھی میں آ جاتا ہے۔جب خدا تعالی ڈیوڑھی میں آ گیا تو پھر اندر آنا کیا تعجب ہے۔(ملفوظات جلد2 صفحه 182 الحكم (31 مارچ 1902 | یعنی ہمارے جسم کا اندر داخل ہونے کا جو دروازہ ہے، جو مین گیٹ (Main Gate) ہے، راستہ ہے، وہ زبان ہے اگر یہ لغو اور فضول باتوں سے پاک ہے تو سمجھو کہ تمہارے وجود میں داخل ہونے کا راستہ صاف اور پاک ہے۔اور اللہ تعالیٰ کیونکہ خوبصورت ، پاک اور صاف چیزوں کو پسند کرتا ہے تو اس طرح تمہاری پاک زبان کی وجہ سے خدا تعالیٰ بھی تمہارے قریب آ جائے گا۔تو جب تمہاری پاک زبان سے خدا تعالیٰ تمہارے اتنے قریب آ گیا تو پھر عین ممکن ہے کہ تمہارے دوسرے