خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 594 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 594

$2004 594 خطبات مسرور سب کام ہو رہا ہوتا ہے پھر بعد میں یہی شغل عادت بن جاتا ہے اور گلے کا ہار بن جاتا ہے چھوڑنا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ یہ بھی ایک قسم کا نشہ ہے اور نشہ بھی لغویات میں ہے۔کیونکہ جو اس پر بیٹھتے ہیں بعض دفعہ جب عادت پڑ جاتی ہے تو فضولیات کی تلاش میں گھنٹوں بلاوجہ، بے مقصد وقت ضائع کر رہے ہوتے ہیں۔تو یہ سب لغو چیزیں ہیں۔آجکل بعض ویب سائٹس ہیں جہاں جماعت کے خلاف یا جماعت کے کسی فرد کے خلاف گندے غلیظ پراپیگنڈے یا الزام لگانے کا سلسلہ شروع ہوا ہوا ہے۔تو لگانے والے تو خیر اپنی دانست میں یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں، اپنی عقل کے مطابق کہ یہ مغلظات بک کے وہ جماعت کو کوئی نقصان پہنچارہے ہیں حالانکہ اُن کی ان لغویات پر کسی کی بھی کوئی نظر نہیں ہوتی۔جماعت کا شاید اعشاریہ ایک فیصد بھی طبقہ اس کو نہ دیکھتا ہو، اس کو شاید پتہ بھی نہ ہو۔تو بہر حال یہ تمام لغویات ہیں اس لئے وہ جو ان گندے غلیظ الزاموں کے جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں، بعض نو جوانوں میں یہ جوش پیدا ہو جاتا ہے تو اس جوش کی وجہ سے وہ جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں ان کو بھی اس سے بچنا چاہئے۔جماعت کی اپنی ایک ویب سائٹ ہے اگر کوئی اعتراض کسی کی نظر میں قابل جواب ہو کسی کی نظر سے گزرے تو وہ اعتراض انہیں بھیج دینا چاہئے۔انٹرنیٹ پر بیٹھے ہوتے ہیں پتہ ہے اس کا پتہ کیا ہے۔اور اگر کسی کے ذہن میں اس اعتراض کا کا کوئی جواب آیا ہوتو وہ جواب بھی بے شک بھیج دیں۔لیکن وہاں پر خود کسی کے اعتراض کا جواب نہیں دینا۔ہو سکتا ہے آپ کو جواب دینا صحیح نہ آتا ہو کیونکہ جہاں آپ بھیجیں گے خود ہی چیک کر لیں گے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ اس اعتراض کا جواب دینا بھی ہے کہ نہیں یا اس معاملے میں پڑنا صرف لغویات یا صرف وقت کا ضیاع ہی ہے۔کیونکہ اعتراض کرنے والے کی اصلاح تو ہونی نہیں ہوتی کیونکہ اگر ان کا یہ مقصد ہو، یہ نیت ہو کہ انہوں نے اپنی اصلاح کرنی ہے یا کوئی فائدہ اٹھانا ہے تو پھر اتنی غلیظ اور گندی زبان استعمال نہیں ہوتی ، شریفانہ زبان استعمال کی جاتی ہے۔اور بعض اعتراضوں کے جواب کا تو دوسروں کو فائدہ بھی