خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 583 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 583

$2004 583 خطبات مسرور اپنے فضلوں اور اپنی رحمتوں کے وارث بننے والوں، اپنی جنتوں کے وارث بنے والوں کے لئے مختلف طریقے سکھائے ہیں کہ اگر ان راستوں پر چلو گے اس طرح اپنی اصلاح کرو گے تو پھر میری جنتوں کے وارث ٹھہرو گے گویا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بتایا کہ میری جنتوں تک پہنچنے کی جو سیڑھی ہے اس کے یہ یہ قدم ہیں، یہ یہ درجے ہیں۔ہر سیڑھی پر قدم رکھتے ہوئے اگر میری رضا حاصل کرنے کی کوشش کرو گے تو فردوس کے مالک ہو گے۔یعنی میری اُس جنت کے وارث ہو گے جو تمام جنتوں کا مجموعہ ہے۔وہ اعمال کیا ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کی جنتوں کے وارث ہو گے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ اس کے مختلف درجے ہیں۔فرمایا پہلا زینہ یا درجہ نمازوں میں عاجزی دکھانا ہے۔دوسرا ز مینہ یہ ہے کہ لغویات سے پر ہیز کرنا۔تیسرا درجہ اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرنا ہے۔پھر چوتھی سیڑھی یا درجہ یہ ہے کہ فروج کی حفاظت کرنا یعنی شرم گاہوں کی۔اسی طرح منہ آنکھ کان وغیرہ کی بھی حفاظت کرنا اور ان کا صحیح استعمال کرنا۔پھر پانچواں قدم اس سیڑھی کا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق سے کئے گئے عہدوں اور وعدوں کی ادائیگی۔پھر چھٹا درجہ ہے کہ نمازوں کی حفاظت کرنے والے یہ لوگ ہوتے ہیں۔یعنی ایک فکر کے ساتھ اپنی نمازوں کی بروقت ادائیگی کی طرف توجہ رکھتے ہیں۔تو جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فردوس کے وارث بننے کے لئے ، میری جنتوں کے وارث بننے کے لئے تمہیں یہ تمام منزلیں طے کرنی ہوں گی۔ان میں سے کسی درجے کو بھی کم نہ سمجھو۔یہ تمہیں بتدریج اُس معیار تک پہنچانے کے لئے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کا معیار ہے۔اس لئے ان آیات کے شروع میں ہی بتا دیا کہ تمہاری فلاح، تمہاری کامیابی تمہارا اپنے مقصد کو حاصل کرنے کا دعوی اسی صورت میں حقیقت ہو گا جب ہر درجے اور اس سیڑھی کا ہر قدم جس پر تم کامیابی سے چڑھ جاؤ تمہیں اگلے قدم یا اگلے درجے کی طرف لے جانے والا ہو۔پس نیکیوں کی معراج حاصل کرنے و