خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 574 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 574

$2004 574 خطبات مسرور پیدا کرنے والے (سنی) آدمی پر رحم فرمائے جب وہ خرید وفروخت کرتا ہے اور جب وہ قرضے کی واپسی کا تقاضا کرتا ہے“۔(بخاری کتاب البیوع باب السهولة والسماحة في الشراء والبيع ومن طلب حقا فليطلبه فی عفاف)۔یعنی کا روبار میں بھی ناجائز منافع لوٹ مار نہیں کرتا بلکہ مناسب منافع رکھتا ہے اور جب کسی قرضدار سے قرض واپس نہیں ہوتا اس سے نرمی کا سلوک کرتا ا ہے کیونکہ ایسا آدمی اللہ تعالی کے بندوں پر رحم کر رہا ہوتا ہے۔اس لئے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بھی ایسے لوگوں سے پھر رحم کا سلوک فرماتا ہے۔پھر ایک روایت ہے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ایک ایسے شخص کو جنت میں داخل کیا جو خریدتے وقت اور بیچتے وقت قرض دیتے وقت اور قرض کا تقاضا کرتے وقت آسانی پیدا کرتا تھا“۔(سنن نسائى كتاب البيوع باب حسن المعاملة والرفق فى المطالبة پھر ایک روایت آتی ہے آپ نے فرمایا کہ " جس شخص نے تنگدست مقروض کو قرضہ کی ادا ئیگی میں مہلت دی یا معاف کر دیا تو قیامت کے دن جب اللہ کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنے عرش کے نیچے سایہ عطا فرمائے گا۔(ترمذى كتاب البيوع ما جاء في انظار المعسر والرفق به حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایک تاجر لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا اگر وہ کسی تنگدست شخص کو دیکھتا تو اپنے ملازموں کو کہتا اس سے صرف نظر کرو۔شاید اللہ تعالیٰ ہم سے بھی صرف نظر فرمائے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس سے صرف نظر فرمایا “۔(بخارى كتاب البيوع باب من انظر معسرا) پس جن کو توفیق ہو ان کو جس حد تک ممکن ہو سہولت مہیا کرنی چاہئے ، بجائے لڑائی جھگڑوں اور عدالتوں کے۔اب میں جو قرض لینے والے ہوتے ہیں ان کو کس قسم کا نمونہ دکھانا چاہئے ، ان کے بارے میں کچھ بتاؤں گا کہ قرض کی واپسی کس طرح کرنی چاہئے۔اور کتنی فکر سے اور کتنی جلدی کرنی چاہئے۔اس سلسلے میں تو سب سے پہلے آنحضرت ﷺ کا اپنانمونہ ہے۔