خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 51
$2004 51 خطبات مسرور اپنی چیز نہیں ہے وہ بھی نہیں دے رہے۔اللہ تعالیٰ ایسے بچوں کو عقل اور سمجھ دے کہ وہ اپنے والدین کے وعدوں کو پورا کرنے والے بہنیں۔یہاں تو یہ حکم ہے کہ صرف ان کے وعدوں کو ہی پورانہیں کرنا بلکہ ان کے دوستوں کا بھی احترام کرنا ہے، ان کو بھی عزت دینی ہے اور ان کے ساتھ جو سلوک والدین کا تھا اس سلوک کو جاری رکھنا ہے۔پھر ایک روایت ہے آنحضرت ﷺ کی رضاعی والدہ حلیمہ مکہ آئیں اور حضور سے مل کر قحط الله صلى الله اور مویشیوں کی ہلاکت کا ذکر کیا۔حضور ﷺ نے حضرت خدیجہ سے مشورہ کیا اور رضاعی ماں کو چالیس بکریاں اور ایک اونٹ مال سے لدا ہوا دیا۔(طبقات ابن سعد جلد اول صفحه ١١٣ مطبوعه بيروت ١٩٦٠) اب خدمت صرف حقیقی والدین کی نہیں ہے بلکہ ہمارے آقا حضرت محمد ﷺ کا اسوہ حسنہ تو یہ ہے کہ اپنی رضاعی والدہ کی بھی ضرورت کے وقت زیادہ سے زیادہ خدمت کرنی ہے۔اور اس کوشش میں لگے رہنا ہے کہ کسی طرح میں حق ادا کروں۔اور یہاں اس روایت میں ہے کہ مال چونکہ حضرت خدیجہ کا تھا، وہ بڑی امیر عورت تھیں اور گو کہ آپ نے اپنا تمام مال آنحضرت ﷺ کے سپر د کر دیا تھا، آپ کے تصرف میں دے دیا تھا، آپ کو اجازت تھی کہ جس طرح چاہیں خرچ کریں لیکن پھر بھی حضرت خدیجہ سے مشورہ کیا اور ہمیں ایک اور سبق بھی دے دیا۔بعض لوگ اپنی بیویوں کا مال ویسے ہی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ان کے تصرف میں نہیں بھی ہوتا ان کے لئے بھی سبق ہے۔پھر ایک روایت ہے حضرت ابوطفیل بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو مقام چغرانہ میں دیکھا۔آپ گوشت تقسیم فرمارہے تھے۔اس دوران ایک عورت آئی تو حضور نے اس کے لئے اپنی چادر بچھا دی اور وہ عورت اس پر بیٹھ گئی۔میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ خاتون کون ہے جس کی حضور اس قدر عزت افزائی فرما ر ہے ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ آنحضور ﷺ کی رضاعی والدہ ہیں۔(ابو داؤد۔کتاب الادب ـ باب في بر الوالدين) ایک بار حضور تشریف فرما تھے کہ آپ کے رضاعی والد آئے۔حضور نے ان کے لئے چادر کا