خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 552 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 552

$2004 552 خطبات مسرور پر نازل ہوں گے۔پھر انہیں فضلوں کا ذکر کرتے ہوئے تمام کارکنان مہمانوں کے بھی شکر گزار ہوں گے کہ انہوں نے بھی تعاون کیا اور میز بانوں کی کمیوں پر صرف نظر کیا اور کسی قسم کا شکوہ یا گلہ نہیں کیا۔اور اس بات پر ان کو مہمانوں کا شکر گزار ہونا چاہئے اور پھر اللہ تعالیٰ کا بھی مزید شکرگزار ہونا چاہیئے کہ اس نے مہمانوں کے دلوں کو ہماری طرف سے بھی نرم رکھا اور انہوں نے صرف نظر سے کام لیا۔پھر مہمانوں کو بھی شکر گزار ہونا چاہئے کہ وہ یہاں آرام سے رہے اور کسی قسم کی تکلیف یا زیادہ تکلیف ان کو برداشت نہیں کرنی پڑی۔ان کو تمام انتظامیہ کا شکر گزار ہونا چاہئے اور پھر جو تمام کارکنان ہیں جن میں چھوٹے بچوں سے لے کر بوڑھوں تک کی عمر کے لوگ شامل ہیں جنہوں نے جہاں جہاں ڈیوٹی تھی بڑی خوش اسلوبی سے اپنی ڈیوٹیاں ادا کیں ، اپنے فرائض نبھائے اور مہمانوں کے لئے سہولت بہم پہنچانے کی کوشش کی۔مہمانوں کو بھی چاہئے کہ اس شکرانے کے طور پر ان سب کارکنان کے لئے ، ان کی دینی و دنیاوی ترقیات کے لئے دعا کریں۔جلسے سے پہلے گزشتہ تین چار ہفتے سے تو بعض کارکنان دن رات ایک کر کے اپنی ضروریات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کے انتظامات کو بہتر سے بہتر بنانے کی خدمت میں لگے رہے ہیں۔اور پھر جلسے کے دنوں میں بھی ایک بڑی تعداد کارکنان اور کارکنات کی اس خدمت پر مامور رہی اور اپنے آرام اپنی خوراک کی کچھ بھی پرواہ نہیں کی۔اور کارکنات نے اس خدمت کے جذبے کے تحت اپنے بچوں کو ( بعض بچوں کی مائیں بھی تھیں ) دوسروں کے سپر د کیا۔یا گھروں میں بھی چھوڑ کے آئیں۔بالکل بے پرواہ ہو گئیں اس بات سے کہ ان کے سر پر کوئی رہا بھی کہ نہیں یا بچوں کا کیا حال ہے۔ان بچوں کی ضروریات کا خیال بھی رکھا جا رہا ہے یا نہیں۔آنے والے مہمانوں کو اللہ تعالیٰ کے شکر کے ساتھ ساتھ ان کارکنوں کا بھی شکر ادا کرنا چاہئے کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ جو بندوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ خدا کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔اس شکر گزاری کا بہترین طریقہ یہ ہے جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ ان تمام کارکنوں کے