خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 550
خطبات مسرور $2004 550 تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: الحمد للہ کہ جماعت احمد یہ یو۔کے۔کا جلسہ سالانہ اللہ تعالیٰ کے بے شمار فضلوں کو لے کر آیا اور اللہ تعالیٰ کے بے شمار فضل اور برکات بانٹتا ہوا چلا گیا۔کئی لوگوں نے خطوط میں اور زبانی بھی اظہار کیا کہ ایک عجیب روحانی کیفیت تھی جو ہم اپنے اندر محسوس کرتے رہے۔خدا کرے کہ یہ روحانی کیفیت عارضی نہ ہو بلکہ ہمیشہ رہنے والی اور دائی ہو۔ہم ہمیشہ اس کوشش میں رہیں کہ اللہ تعالیٰ کے جن فضلوں کو ہم نے سمیٹا ہے ان کو اپنی زندگی پر لا گو بھی کرتے رہیں۔اللہ تعالیٰ کے جو احکامات ہیں ان پر عمل کرنے کی کوشش بھی کرتے رہیں۔مقررین کی باتیں ان مقررین کی طرح نہ ہوں جن کے جو شیلے خطابات کا صرف وقتی اثر تو ہوتا ہے لیکن مجلس سے اٹھتے ہی وہ اثر زائل ہو جاتا ہے۔یہی دنیا اور اس کے دھندوں میں انسان کھویا جاتا ہے۔ترقی کرنے والی اور انقلاب پیدا کرنے کا دعویٰ کرنے والی قوموں کے یہ طریق نہیں ہوا کرتے۔وہ جب ایک کام کرنے کا عزم لے کر اٹھتی ہیں تو پھر اس کو انتہا تک پہنچانے کی بھی کوشش کرتی ہیں۔لیکن جو الہی جماعتیں ہوتی ہیں ان کا ایک اور خاصہ بھی ہوتا ہے ان کو اپنی ترقیات اپنی کسی قابلیت یا اپنی کسی محنت یا اپنی کسی خوبی کی وجہ سے نظر نہیں آ رہی ہوتی بلکہ ان کو پتہ ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ کے فضلوں کی وجہ سے ہے نہ کہ ہماری کسی خوبی کی وجہ سے اور پھر جب جماعت بحیثیت جماعت بھی اور ہر فرد جماعت انفرادی طور پر بھی ان فضلوں کو دیکھتے ہوئے خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے اس کے آگے جھکتا ہے اس کے آگے گڑ گڑاتا ہے کہ اے خدا! تو نے اس قدر فضل ہم پر کئے جو