خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 546
$2004 546 مسرور اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے ہر ملک میں جہاں جہاں بھی جلسے ہوتے ہیں ان باتوں کا خیال رکھنا چاہئے۔بعض باہر سے آنے والے یہاں شاپنگ کرنے کے لئے قرض لینے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ بات قناعت کی صفت کو گدلا کر رہی ہوتی ہے۔قناعت کی صفت میں ایسا اظہار ہو رہا ہوتا ہے جو لوگوں کو اچھا نہیں لگتا۔تو اس سے بچنا چاہئے۔اتنا ہی خرچ کریں جتنی توفیق ہے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ شاپنگ کرنے کے لئے جتنی ضرورت ہے رقم آپ کے پاس ہے اتنی شاپنگ کریں ،عزیزوں رشتہ داروں سے قرض نہ لیں۔یہ بڑا غلط طریقہ ہے۔جلسہ سننے کی غرض سے آتے ہیں تو جلسہ سننا چاہئے اور جو روحانی مائدہ یہاں تقسیم ہورہا ہے اس سے ہر ایک کو اپنی جھولیاں بھرنی چاہئیں۔گوکہ یہی کہا جاتا ہے کہ مہمان نوازی تین دن کی ہوتی ہے لیکن بعض لوگ دور سے آ رہے ہوتے ہیں خرچ کر کے آرہے ہوتے ہیں اور پھر یہ خیال ہوتا ہے کہ دوبارہ موقع مل سکے یا نہ مل سکے تو زیادہ ٹھہر نا چاہتے ہیں۔اگر اپنے قریبی عزیزوں رشتہ داروں کے ہاں ٹھہر جائیں تو ان کو خوشی سے ٹھہرا لینے میں حرج نہیں ہے۔اور بعض طبیعتیں بڑی حساس ہوتی ہیں ایسے مہمانوں کو مذاقاً بھی احساس نہیں دلانا چاہئے جو مالی لحاظ سے ذرا کم ہوں یا قریبی عزیز ہوں کہ تین دن ہو گئے اور مہمان نوازی ختم ہوگئی۔اس طرح اس سے دوریاں پیدا ہوتی ہیں۔حفاظتی طور پر بھی خاص نگرانی کا خیال رکھنا چاہئے اپنے ماحول پر گہری نظر رکھیں۔یہ ہر ایک کا فرض ہے۔اجنبی آدمی یا کوئی ایسا شخص آپ دیکھیں جس پر شک ہو تو متعلقہ شعبہ کو اطلاع دیں لیکن خود کسی سے اس طرح نہ پیش آئیں جس سے کسی قسم کا چھیڑ چھاڑ کا خطرہ پیدا ہو اور آگے لڑائی جھگڑے کا خطرہ پیدا ہو۔لیکن اگر اطلاع کا وقت نہیں ہے پھر اس کا بہترین حل یہی ہے کہ آپ اس شخص کے آپ ساتھ ساتھ ہو جائیں ، اس کے قریب رہیں۔تو ہر شخص اس طرح سیکیورٹی کی نظر سے