خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 540 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 540

$2004 540 مسرور نمازوں اور جلسے کی کارروائی کے دوران بچوں کی خاموشی کا بھی انتظام ہونا چاہئے۔ڈیوٹی والے بھی اس چیز کا خاص خیال رکھیں اور مائیں اور باپ بھی اس کا بہت خاص خیال رکھیں اور ڈیوٹی والوں سے اس سلسلے میں تعاون کریں۔جو جگہیں بچوں کے لئے بنائی گئی ہیں وہاں جا کے چھوٹے بچوں کو بٹھا ئیں تا کہ باقی جلسہ سننے والے ڈسٹرب نہ ہوں۔ا جلسہ کے دوران اگر کسی غیر از جماعت مہمان کی تقریر آپ سنیں ، اس میں سے آپ کو کوئی بات پسند آئے اور اس کو خراج تحسین دینا چاہتے ہوں تو اس کے لئے تالیاں بجانے کی بجائے جو ہماری روایات ہیں اللہ اکبر کا نعرہ لگانا۔ماشاء اللہ وغیرہ کہنا ایسے کلمات ہی کہنے چاہئیں کیونکہ تالیاں بجانا ہمارا شعار نہیں ہے۔ہماری اپنی بھی کچھ روایات ہیں اور ان کا خیال رکھنا چاہئے۔یہاں پر بھی اور دنیا میں جہاں جہاں جلسے ہوتے ہیں انہیں روایات کا خیال رکھنا چاہئے۔نعروں کے ضمن میں یادرکھیں کہ ہر کوئی اپنی مرضی سے نعرے نہ لگائے بلکہ انتظامیہ نے اس کے لئے پروگرام بنایا ہوا ہے، نعرے لگانا کچھ لوگوں کے سپر د کیا ہوا ہے۔وہی جب نعرے لگانے کی ضرورت محسوس کریں گے تو نعرے لگا دیں گے۔لیکن بعض دفعہ یہ بھی ہوتا ہے کہ بعض لوگوں کو اگر نعرے نہ لگ رہے ہوں تو تقریر کے دوران نیند آ جاتی ہے۔ایسے لوگوں کے لئے پھر نعروں کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بے وجہ نعرے لگاتے جائیں تو نظم یا تقریر جو ہورہی ہوتی ہے بعض دفعہ اس کا مزا نہیں رہتا۔ایسے لوگ جن کو نیند آ رہی ہو خا موشی سے ساتھ والا ان کو ٹھوکا مار کر جگا دیا کرے۔انگلستان کے احمدیوں کو، بہت سارے اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں شامل ہو چکے ہیں حضرت اقدس مسیح موعود کی خواہش تو تھی کہ ہر کوئی شامل ہو، تو خاص طور پر ذوق شوق سے جلسے میں شامل ہونا چاہئے۔جو ابھی تک نہیں آئے وہ بھی کوشش کریں کہ کم از کم کل صبح جلسے کا سیشن شروع ہونے سے پہلے پہلے آجائیں کیونکہ بغیر کسی جائز عذر کے جلسے سے غیر حاضر نہیں رہنا چاہئے۔بعض