خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 538 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 538

$2004 538 خطبات مسرور چاہئے۔دیکھو اگر کوئی مہمان یہاں محض اس لئے آتا ہے کہ وہاں آرام ملے گا، ٹھنڈے شربت ملیں گے یا تکلف کے کھانے ملیں گے تو وہ گویا ان اشیاء کے لئے آتا ہے۔حالانکہ خود میز بان کا فرض ہوتا ہے کہ وہ حتی المقدور ان کی مہمان نوازی میں کوئی کمی نہ کرے اور اس کو آرام پہنچاوے اور وہ پہنچا تا ہے۔لیکن مہمان کا خود ایسا خیال کرنا اس کے لئے نقصان کا موجب ہے۔(تفسیر حضرت مسیح موعود عليه السلام جلد سوم صفحه (542) پس جو مہمان آ رہے ہیں اس نیک مقصد کے لئے آئیں اور اگر کوئی سہولت میسر آ جائے اور آرام سے یہ دن کٹ جائیں تو خدا تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے یہ سامان مہیا فرما دیئے۔جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بغیر اجر کے کسی نیکی کو جانے نہیں دیتا تو آپ کے یہاں آنے کے مقصد کو ضائع نہیں کرے گا اور بے شمار فضل اور رحمتیں نازل ہوں گی۔ایک حدیث میں آتا ہے۔ایک دعا ہے جو آنے والے مہمانوں کو پڑھتے رہنا چاہئے۔حضرت خولہ بنت حکیم بیان کرتی ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو شخص کسی مکان میں رہائش اختیار کرتے وقت یا کسی جگہ پڑاؤ ڈالتے وقت یہ دعامانگے کہ اَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ یعنی میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ میں آتا ہوں اور اس شر سے جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے پناہ چاہتا ہوں۔تو اس شخص کو یہاں کی رہائش ترک کرنے یا اس جگہ سے کوچ کرنے تک کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی۔(مسلم كتاب الذكر باب التعوذ من سوء القضاء ودرك الشقاء وشره یہ دعائیں پڑھتے رہنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ ہر آنے والے کو ہر شر سے بچائے اور نیک اثرات لے کر یہاں سے جائیں اور نیک اثرات چھوڑ کر جائیں۔جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ جلسے پر آنے والے مہمانوں کو یہ مقصد پیش نظر رکھنا چاہئے کہ آپس میں محبت واخوت پیدا ہو تو اس بات میں جو تعلیم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دی ہے اس کا بھی اس روایت سے اظہار ہوتا ہے۔